سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 478

سيرة النبي متر 478 جلد 3 ہی انہوں نے اپنے پیرؤوں سے یہ بھی کہا کہ دعائیں مانگو کہ اے خدا! جیسی تیری آسمان پر بادشاہت ہے ویسی ہی زمین پر بھی آئے۔یعنی تم ہمیشہ دعائیں مانگتے صلى الله رہو کہ محمد رسول اللہ کے ظاہر ہوں۔دعائیں مانگتے رہو کہ محمد رسول اللہ مے کے زمانہ میں دنیا کو یہ معلوم ہو جائے کہ آسمان اور زمین کا خدا ایک ہی ہے۔اس میں نہ صرف دہریوں کا رد ہے بلکہ جینیوں اور آریوں کا بھی رد ہے۔جینی کہتے ہیں کہ روحیں ترقی کرتے کرتے آپ ہی اونچی ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ غلط ہے ہم خود تغییرات کرتے کرتے کامل روح پیدا کرتے ہیں۔آریہ کہتے ہیں دنیا میں خدا کا تصرف نہیں مادہ اور روح آپ ہی آپ سب کچھ کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے دنیا کا سارا انتظام ہمارے احکام کے ماتحت چلتا ہے اور ہر قسم کے تغیرات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔طبعی قانون پر خدائے واحد کی حکومت ذرا غور کرو قانون شریعت کا قانونِ قدرت نے ایک صلى الله زمانہ دراز تک کس طرح ساتھ دیا اور کس طرح اس کے ماتحت چلا۔رسول کریم علی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قریباً پونے تین ہزار سال بعد پیدا ہوئے۔کیا یہ طبعی قانون پر حکومت نہیں کہ اس وقت تک حضرت اسمعیل کی اولاد جاری رہے گی۔حضرت ابرا ہیم اور حضرت اسماعیل کا نام ایسا روشن ہوگا کہ ان کی اولا داس بات کو یا در کھے گی کہ وہ ان کی اولاد ہے۔مکہ قائم رہے گا۔اس میں ایک خاص شخص اس خاص حلیہ کا پیدا ہو گا۔اس کی قوم اس کا مقابلہ کرے گی اور اسے گھر سے نکال دے گی۔وہ نبی حضرت موسی کی طرح صاحب شریعت ہوگا۔وہ پہلے کمزور ہو گا اور گھر سے نکالا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ اسے جماعت دے گا ، وہ مصائب برداشت کرے گا اور صبر کرے گا لیکن اس کی قوم کا اس پر ظلم بڑھتا جائے گا۔آخر دشمن خفیہ تدبیر کرے گا کہ اس کے کمزور ساتھیوں کو تباہ کر دے اور فخر کرتا ہوا آئے گا۔یہ واقعہ اس کی ہجرت کے ایک