سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 477
سيرة النبي علي 477 جلد 3 دوں گا۔قوموں میں تغیرات آتے ہیں، مرد نامرد پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح خاندانوں کے نام و نشان مٹ جاتے ہیں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں یہ تغیر نہیں آتا۔اس لئے کہ آپ کی نسل بڑھے اور ترقی کرے۔عیسائی کہتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ کی تباہی کی خبر دینا کوئی بڑی بات نہیں تھی ان میں تباہی کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔مگر ان کی تباہی کی خبر تو یسعیاہ اور حبقوق نے بھی دی تھی اور کئی ہزار سال پہلے دی تھی جب کہ قیصر و کسریٰ کا کہیں نام ونشان بھی نہ تھا۔اور پھر قانون قدرت نے ان صلى الله کی تباہی کے سامان اُس وقت پیدا کئے جب محمد رسول اللہ یہ ظاہر ہو گئے۔اسی طرح جب رسول کریم ہے ظاہر ہوئے تو ہوسکتا تھا کہ مکہ سے نکالے نہ جاتے۔اگر نکالے گئے تھے تو آپ کی قوم آپ پر حملہ نہ کرتی۔اگر حملہ کرتی تو شکست نہ کھاتی مگر یہ سب کچھ ہوا۔اب غور کرو یہ کس نے کرایا ؟ اسی طرح ممکن تھا کہ ابو جہل حملہ نہ کرتا۔اگر اس نے کیا تو عبداللہ کو غصہ نہ دلاتا تا کہ وہ اس کی گردن چھوٹی نہ کاٹے۔مگر اس کے لئے اسباب پیدا ہوئے۔یہ اسباب کس نے پیدا کئے؟ ان سے صاف نظر آتا ہے کہ دو ہزار سال سے زمین و آسمان کی بادشاہت ایک ساتھ چل رہی تھی۔آسمان سے یہ حکم ہو گیا کہ ابراہیم کی نسل کو قائم رکھنا۔تباہی و بربادی کی آندھیاں آتیں تو انہیں کہہ دیا جاتا کہ دیکھنا! مکہ پر کوئی آنچ نہ آئے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کا حلیہ اتنا عرصہ قبل بتا دینا اور پھر اس کا ہو بہو پورا ہونا، یہ سب باتیں قانون طبعی کے ماتحت تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کے نتیجہ میں فرماتا لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ 84 - اے خدا کے منکرو! غور تو کرو کیا۔قانون آپ ہی آپ چل رہا ہے؟ میں دو ہزار سال کی ہسٹری پیش کر کے بتا تا ہوں کہ خدا ہے اور یقینا ہے لِلهِ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ 85 سے خدا کا ثبوت ملتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام نے رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے متعلق فرمایا کہ اس وقت خدا خود آ جائے گا یعنی آپ کے وجود سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملے گا۔اور ساتھ