سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 474
سيرة النبي علي 474 جلد 3 مهْتَدُونَ 76 وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا انہی لوگوں کیلئے امن مقدر ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله ! ہر شخص تھوڑا بہت ظلم تو کر بیٹھتا ہے۔آپ نے فرمایا اس جگہ ظلم سے مراد شرک ہے 77۔- غرض اس پیشگوئی کے مطابق ہر قوم جو اہل کتاب میں سے ہے آپ نے اسے مثیل یہود قرار دے کر مغضوب یا مثیلِ نصاری قرار دے کر ضال قرار دیا۔اور جو قو میں اہل کتاب نہ تھیں ان کے متعلق عدالت کو اس رنگ میں استعمال کیا کہ فرمایا ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا اور شرک کا ارتکاب کر کے صحیح راستہ سے منحرف ہوگئی ہیں۔گویا گناہ کا لفظ جو انجیل میں استعمال ہوا ہے وہ تفریط کے مترادف ہے راستی افراط کے مترادف اور عدالت توحید سے بے اعتنائی کے مترادف ہے۔اور تین ہی گروہ قرآن کریم نے قرار دیئے ہیں۔آٹھویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ایسی باتیں کہے گا جو اس سے پہلے نہیں کہی گئیں۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ 78 تمہیں وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں جو نہ تمہیں معلوم تھیں اور نہ تمہارے باپ دادا کو۔ان باپ دادا میں حضرت موسئی بھی شامل ہیں۔نویں بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ سب سچائیاں بتائے گا جن کے بعد کسی اور سچائی کی ضرورت نہ رہے گی۔یہ بھی قرآن کریم میں دعویٰ کیا گیا ہے فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا 79 آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔دسویں بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا بلکہ جو کچھ سنے گا وہی ا کہے گا۔یعنی اس کا کلام کلی طور پر الہام پر مشتمل ہوگا۔یہ پیشگوئی صرف قرآن کریم پر