سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 472

سيرة النبي علي 472 جلد 3 متعلق مت ڈرو۔ان کے وقت بھی ہم نے نبی بھیجے تھے اگر انہوں نے ان انبیاء کو قبول کر لیا تھا تو خدا انہیں جنت میں لے جائے گا۔یہ آباء کے متعلق ان کو تسلی دی۔اب یہ وسوسہ باقی رہتا تھا کہ انسان گناہ سے تو بچ ہی نہیں سکتا پھر نجات کیسے ہوگی؟ اس کے لئے فرمایا یہ وسوسہ بھی دور کر دو اور ان سے کہو لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ اَسْفَلَ سَفِلِينَ - إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصANAL فَلَهُم اَجر DOWNLOAD LOW 71 اے محمد ! ( ع ) ان کو تسلی دے الصَّلِحَتِ غَيْرُ مَمْنُونٍ کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ انسان کی فطرت گندی ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔ہم نے انسان کو نیک فطرت دے کر بھیجا ہے۔جب انسان خطا کرتا ہے تب ہم اسے نچلے درجہ میں بھیجتے ہیں ورنہ بڑے بڑے انعام دیتے ہیں۔گناہ ایک باہر سے آنے والی چیز ہے۔اصل میں انسان کے اندر نیکی ہی رکھی گئی ہے۔غرض اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو تسلی دلائی۔جولوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے لئے نجات کا دروازہ بند ہے انہیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہونے کی دعوت دی۔جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نیک نہیں ہو سکتے انہیں نیکی کی امید دلائی۔جو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ایک دفعہ گناہ کر لیا تو پھر اس کے وبال سے نجات نہیں ان میں تو بہ کا اعلان کیا۔جولوگ یہ خیال کرتے تھے کہ گنہگار مر گئے تو ہمیشہ کے لئے گئے۔انہیں دوزخ کے ایک درمیانی سٹیج ہونے کا علم دیا۔غرض آپ حقیقی معنوں میں دنیا کو تسلی دلانے والے تھے۔یہ تو دوسروں کے متعلق فرمایا۔اس کے بعد اپنے لوگوں کی باری آئی۔ان کو تسلی کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد سنایا کہ خُــذ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيه 72 فرمایا جب وہ رسول دنیا کو تسلی دے گا تو اس کی امت والے کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے ہی دن حاصل کر چکے ہیں پھر ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا ان سے مساکین کے لئے چندے لو اور اس طرح ان کو پاک