سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 38
سيرة النبي علي 38 صلات رسول اللہ علہ کا تقدس جلد 3 گواحسان اور قربانی میں ہی تقدس کا ذکر آ جاتا ہے کیونکہ نیک نیتی کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھ کر کام کرنے کا نام ہی نقدس ہے۔مگر میں اصولی طور پر بھی بعض باتیں بیان کر دیتا ہوں۔تقدس کا دعویٰ مصلحین کا سوال ہو تو سب سے پہلی چیز دعوی ہوتا ہے اور جب سب سے مقدم امر یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ انہوں نے خود بھی اس امر کا دعوی کیا ہے یا نہیں کہ جو ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے متعلق ہمیں صاف لفظوں میں تقدس کا دعویٰ نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ فرمائیں کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ 4۔ان کے سامنے یہ بات پیش کرو کہ میں بچپن سے تمہارے اندر رہا ہوں۔بچہ تھا کہ تم میں رہتے ہوئے بڑا ہوا۔تم نے میری ایک ایک بات دیکھی ہے۔کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے کبھی جھوٹ اور فریب سے کام لیا؟ اگر کبھی نہیں لیا تو پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ آج میں تم سے کوئی فریب کر رہا ہوں۔یہ رسول کریم ﷺ کا دعوی ہے کہ آپ پر لوگ کوئی عیب نہیں لگا سکتے۔پس وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خدا پر آپ نے جھوٹ بولا۔اس دعوی کا رد چونکہ آپ کے دشمنوں نے نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا کہ انہیں بھی آپ کے تقدس کا اقرار تھا۔تقدس کے دعوی کا ایک اور ثبوت دوسری شہادت ایک اور ہے۔یہ بھی قرآن کریم کی ہے اور قرآن کریم کے نہ ماننے والوں کے لئے گو دلیل نہیں لیکن اس سے دعویٰ ضرور ثابت ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُوْلُوْنَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّلِمِيْنَ بِايْتِ اللهِ يَجْحَدُونَ 5 اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب