سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 463
سيرة النبي م 463 جلد 3 ہم بدر کی جنگ کا حال پڑھتے ہیں تو ہمیں لفظ بلفظ ایسا ہی ایک واقعہ ملتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے جب جنگ شروع ہوئی اور صحابہ مقابل پر کھڑے ہوئے تو ان میں دو کم سن لڑ کے بھی تھے۔یہ جنگی قاعدہ ہے کہ بہادر لڑنے والے اس بات کی احتیاط رکھتے ہیں کہ ان کے دائیں بائیں بھی بہادر ہوں تا کہ وہ پوری بے فکری سے جنگ میں نمایاں حصہ لے سکیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ہمارے دل کفار کی تکالیف سے بھرے ہوئے تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ آج ان سے خوب بدلہ لیں گے مگر جب میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ دولڑ کے کھڑے ہیں تو میرا دل بیٹھ گیا کہ آج کیا لڑنا ہے جب کہ دونوں پہلو اتنے کمزور ہیں۔لیکن ابھی یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری اور میرے کان میں آہستہ سے تا کہ دوسرا لڑ کا نہ سن لے کہا چا! سنا ہے ابو جہل بڑا شریر ہے، مسلمانوں کو بہت دکھ دیتا ہے وہ کونسا ہے؟ میں اسے مارنا چاہتا ہوں۔وہ کہتے ہیں باوجود اس بہادری کے جو میں رکھتا تھا مجھے یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ میں ابو جہل کو مار دوں۔لیکن ابھی وہ لڑکا مجھ سے بات کر ہی رہا تھا کہ دوسرے نے مجھے کہنی ماری اور چپکے سے پوچھا چا! وہ ابو جہل کون ہے جو مسلمانوں کو بہت تنگ کرتا ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ میں اسے ماروں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں اُن کی بات سن کر سخت حیران ہوا۔ابھی تھوڑی سی جنگ ہوئی تھی کہ عقبہ مارا گیا اور ابو جہل کمانڈر بنا تھا۔میں نے انگلی کے اشارے سے بتایا وہ ابوجہل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ دونوں لڑ کے چیل کی طرح جھپٹا مار کر پہرہ میں سے گزرتے ہوئے اس پر جا پڑے اور اسے گرا دیا 58۔پہرہ کے سپاہیوں نے ان پر حملہ کیا اور ایک کا ہاتھ کاٹ دیا جو تسمہ سے لگ رہا تھا۔اس نے اس پر پاؤں رکھ کر اسے علیحد کر دیا کہ لڑائی میں حارج نہ ہو۔ابو جہل گر گیا تھا اور اسے زخم آئے تھے مگر مرا نہ تھا۔رسول کریم علیہ نے جب پوچھا کہ ابو جہل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی تو عبد اللہ بن مسعودؓ اس کا پتہ لگانے کیلئے نکلے۔جب وہ گئے تو دیکھا کہ ابو جہل گرا پڑا