سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 462
سيرة النبي عمال 462 جلد 3 ہو گیا تو اب بنیاد کی گردن کو ننگا کرنا بھی آسان ہو گیا۔اس نقطہ نگاہ سے جب اس پیشگوئی پر غور کیا جائے تو ہمیں اس کا پہلا فقرہ یہ نظر آتا ہے کہ ”تو بنیادکو گردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بنیاد کو گردن تک ننگا کرنے کے کیا معنی ہیں؟ بائبل والے کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیاد کو ننگا کر دے۔مگر جب بنیاد کا لفظ موجود تھا تو پھر گردن تک کہنے کے کیا معنی؟ اور بنیاد کی گردن کا کوئی محاورہ نہیں ہے۔جب گردن کا ذکر ہے تو ماننا پڑے گا کہ یہ کسی انسان کے متعلق ہے۔اور بنیاد عام محاورہ میں اس نیچے کی چیز کو کہتے ہیں جس پر کوئی چیز رکھی ہو۔انگریزی میں Base عمارت کی بنیاد کو بھی کہتے ہیں اور سر کی جڑ کو بھی کہتے ہیں جہاں سر گردن سے ملتا ہے۔عبرانی میں Base کا لفظ ہی ہے۔پس سر کا نچلا حصہ چونکہ گردن پر رکھا ہوتا ہے اس لئے وہ بنیاد ہے اور مطلب یہ ہے کہ گردن تک نچلے ا حصہ کو ننگا کیا جائے گا۔پھر شریر کے گھر کے سر سے مراد گھرانہ کا سردار ہے کیونکہ شریر کے گھر کا سر کوئی اور چیز نہیں ہوتی پس اسے جڑ سے کاٹ دے گا۔ان معنوں کی اگلے فقرہ سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔آگے آتا ہے تو نے اُس کے سرداروں میں سے جو عالی درجہ کا تھا اُس کے بھالوں سے مار ڈالا۔اس فقرہ سے معلوم ہوا کہ پہلے فقرہ میں کسی دشمن کے قتل کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔پس بنیاد کوگردن تک ننگا کرنے کے معنی یقیناً سرکو گدی تک ننگا کرنے کے ہیں۔اور بتایا گیا ہے کہ جب وہ نبی کمزوروں کو بچانے کے لئے ایک طرف سے نکلا اور دوسری طرف سے اس کے دشمن غریبوں کو مسل ڈالنے کے خیال پر فخر کرتے ہوئے نکلے تو آپس میں جنگ ہوئی اور اس جنگ میں جو دشمنوں کا سردار تھا اُسے اُس نبی یا اُس کے کسی تابع نے گردن تک ننگا کر کے اُسی کے ہتھیار سے مارڈالا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا بدر کی جنگ میں جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ کسی سردار کے سر کو اس کی گردن کلی کر کے گدی سے کاٹ دیا گیا ہو۔جب