سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 461

سيرة النبي عمال 461 جلد 3 بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نَعُوذُ باللهِ قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے۔اگر یہی بات تھی اور کفار اس قافلہ کو بچانے چلے تھے تو پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ تکبر کرتے نکلے اور پھر یہ کہتے کچھ تھے اور ان کا اندرونی منشا کچھ اور تھا۔وہ چاہتے یہ تھے کہ اسلام کو نقصان پہنچائیں۔بھلا قافلہ کو بچانے سے اسلام کو کیا نقصان پہنچا سکتے تھے۔یہ عجیب لطیفہ ہے کہ بائبل کہتی ہے کہ دشمن چوری سے نکلے اور اُن کی غرض یہ تھی کہ چپکے سے اس قوم کو جو کمزور تھی تباہ کر دیں اور قرآن بھی ان کی غرض يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بیان کر کے بائبل کی تصدیق کرتا ہے۔لیکن مؤرخ کہتے ہیں کہ کفار صرف اپنے ایک قافلہ کو بچانے کی غرض سے نکلے تھے اور رسول کریم ﷺ قافلہ کو لوٹنے کیلئے آئے تھے۔بائبل اور قرآن دونوں کا بیان ایک ہے اور مؤرخ جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔کفار نے قافلہ کو بچانے کا صرف بہانہ صلى الله بنایا تھا۔ان کی غرض مدینہ پر حملہ کرنا تھی تا کہ مسلمانوں کو تباہ کر دیں۔ابو جہل کے قتل کئے جانے کی پیشگوئی بارھویں پیشگوئی۔اب اس پیشگوئی کے درمیان کے دو فقرے جنہیں جو بڑی شان سے پوری ہوئی میں نے چھوڑ دیا تھا اُن کا ذکر کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہیں تو بنیاد کو گردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔تُو نے اس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُس کے بھالوں سے مارڈالا۔اس پیشگوئی میں اس قدر استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ بظاہر مضمون کا سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو معنی کھل جاتے ہیں۔یہ تو صاف بات ہے کہ بنیاد کی گردن کوئی نہیں ہوتی ، نہ شریر کے گھر کا کوئی سر ہے۔پس اس کے کوئی اور معنی کرنے ہوں گے۔سو ہم دوسرے حصہ کو دیکھتے ہیں تو اُس میں اس کی تشریح موجود ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سر سے مراد گھرانہ کا سردار ہے۔جب یہ حل