سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 460

سيرة النبي عمار 460 جلد 3 کمان میں نکلے۔ابو جہل سیکنڈ اِن کمان تھا۔جب عتبہ مارا گیا تو ابوجہل نے کمان سنبھال لی۔غرض مکہ والے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو تباہ کرنے کیلئے نکلے۔ادھر رسول کریم ﷺ کو جب ان کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ کبھی نکلے تا کہ دشمن مدینہ پر حملہ کر کے مدینہ کو تباہ نہ کر سکے۔قرآن کریم میں اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا 55۔فرمایا اے مسلمانو! اللہ کے رستہ میں لڑائی کرنے میں تمہیں کیا عذر ہو سکتا ہے جب کہ کچھ کمزور مرد، عورتیں اور بچے ہم سے دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس ظالم بستی سے نکال اور ہماری امداد کے لئے کسی کو کھڑا کر۔آگے فرماتا ہے فَقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللهُ اَنْ يَكُفَّ بَأسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ اَشَدُّ بَأْسًا وَاَشَدُّ تَنْكِيْلا 56 - یعنی اے محمد ! ( ﷺ ) تو نکل کھڑا ہو۔کوئی اور جائے یا نہ جائے تو چل۔ہاں مسلمانوں کو تحریص دلا۔اگر وہ شامل ہو جائیں تو ثواب کے مستحق ہوں گے نہیں تو عذاب کے۔مگر تو ضرور چل۔اس پیشگوئی میں یہ بھی ذکر تھا کہ وہ فخر سے نکلے اور چوری چھپے کمزوروں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ 57 یعنی اے مسلمانو! بدر کے موقع پر نکلنے والے کفار کی طرح نہ بنو جو اتراتے ہوئے نکلے تھے۔پھر وہ ظاہر کچھ دکھاتے تھے اور اندر سے ان کی نیت اور تھی۔ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ایک قافلہ کو بچانے چلے ہیں مگر ان کی نیت مدینہ منورہ کو تباہ کرنے کی تھی۔