سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 37

سيرة النبي علي 37 جلد 3 لئے۔آپ نے جو احسان کئے وہ اپنے فائدہ کے لئے تھے یا لوگوں کے فائدہ کے لئے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے جو احسان کئے وہ اپنے نفس کے لئے تھے تو پھر خواہ آپ کے دس ہزار احسان گنا دیئے جائیں یہ آپ کی کوئی خوبی نہ ہوگی۔اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے کسی کو جو سزا دی وہ غصہ اور انتظام کے طور پر دی تھی تو بے شک یہ بری بات ہوگی۔لیکن اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ لوگوں کے فائدہ کے لئے ایسا کیا گیا اور یہ ایسی ہی سزا تھی جیسی خدا تعالیٰ بھی اپنے بندوں کو دیتا ہے اور جو دوسروں کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ قابل تعریف بات ہوگی۔اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی زندگی اپنے ذاتی آرام و آسائش کے لئے خرچ کی تو یہ بری بات ہوگی۔لیکن اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ آپ نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کی تو یہ مقدس زندگی ہوگی۔اسی طرح آپ کی موت اپنے لئے ہوئی تو بری ہوگی لیکن اگر خدا کے لئے ہوئی تو مقدس ہوگی۔بری قربانی دیکھو کئی دفعہ قربانی بھی بری ہو جاتی ہے۔ہماری کتابوں میں لکھا ہے شخص آکر اسلامی لشکر میں شامل ہو گیا اور بڑے زور سے صلى الله لڑتا رہا۔لوگوں نے اسے دیکھ کر کہا یہ بڑی جانبازی سے لڑا ہے مگر رسول کریم علی نے کہا یہ جہنمی ہے۔یہ بات سن کر ان لوگوں کو بہت تعجب ہوا اور ایک شخص اس کے پیچھے چل پڑا۔آخر وہ زخمی ہوا اور اس سے پوچھا گیا کہ تم کیوں لڑے ہو؟ تو اس نے کہا کہ میں کسی نیک مقصد کے لئے نہیں لڑا بلکہ مجھے اس قوم سے بغض تھا اس کی وجہ سے لڑا تھا۔تو رسول کریم ﷺ نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا حالانکہ وہ آپ کی طرف سے لڑا تھا بلکہ آپ نے فرمایا چونکہ یہ صداقت کے لئے نہیں لڑا بلکہ نفسانیت کے لئے لڑا ہے اس لئے اس کا یہ فعل نا پسندیدہ ہے۔غرض جب مقصد اور مدعا اچھا ہو سزا بھی اچھی ہوتی ہے اور احسان بھی اچھا ہوتا ہے۔لیکن اگر مقصد خراب ہو تو سزا بھی خراب ہوتی ہے اور احسان بھی۔