سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 458
سيرة النبي عمال 458 جلد 3 میں صنعاء کے دروازے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔غرض حبقوق نبی کی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ آنے والا شام ، عراق اور مدائن کو فتح کر لے گا۔قرآن کریم بھی ان جنگوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتا ہے قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُوْنَ فَإِنْ تُطِيْعُوا يُؤْتِكُمُ اللهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا 53 یعنی اعراب میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑے گئے ہیں تو ان سے کہہ دے کہ تم ضرور ایک ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لئے بلائے جاؤ گے جو فنونِ جنگ میں بڑی ماہر ہے اور تم ان سے اُس وقت تک جنگ جاری رکھو گے جب تک وہ ہتھیار پھینکنے پر مجبور نہ ہو جائیں اور مسلمان نہ ہو جائیں۔پس اگر تم اُس وقت خدا کی آواز پر لبیک کہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو بڑا اچھا اجر دے گا۔اور اگر تم اس حکم سے روگردانی اختیار کرو گے جس طرح تم نے اس سے پہلے روگردانی کی تھی تو اللہ تعالیٰ تم کو دردناک عذاب دے گا۔اس آیت میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اب عرب کی جنگ تو ختم ہوئی اب باہر سے اور قو میں آئیں گی جو ان سے بھی زیادہ لڑنے والی ہوں گی اور ان سے تمہارا مقابلہ ہو گا۔مگر ان جنگوں کا بھی آخری نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ عرب سے باہر بھی جنگیں ہونی ضروری تھیں۔چنانچہ قیصر وکسری کے - ساتھ اسلامی فوجوں کی جنگیں ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ بخشا۔دسویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے مکان میں ٹھہر گئے۔تیرے تیروں کی روشنی کے باعث جواڑے اور تیرے بھالے کی چمکا ہٹ کے سبب۔تو قہر کے ساتھ زمین پر کوچ کرے گا۔تو نے نہایت غصے ہو کر قوموں کو روند ڈالا ہے۔“ سورج اور چاند کا ٹھہر جانا یہ محاورہ ہے روحانی اور جسمانی سلسلوں کے نظام کے ٹوٹ جانے کا۔سورج دنیوی اور چاند روحانی سلسلوں کا نشان ہے۔جب خیبر فتح ہوا