سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 451

جلد 3 سيرة النبي علي 451 ہے۔لیکن عرب لوگ ایک وادی تہامہ کہتے ہیں اور مکہ کو اس وادی تہامہ میں شامل سمجھتے ہیں۔قاموس میں لکھا ہے وَتِهَامَةُ بالكَسْرِ مَكَّةُ شَرَّفَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَأَرْضٌ مَّعْرُوفَةٌ 36۔یعنی تہامہ سے مراد مکہ مکرمہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے شرف کو بڑھائے اور ایک معروف زمین بھی ہے۔تاج العروس میں لکھا ہے وَمِنْ اَسْمَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الهَامِيُّ لِكَوْنِهِ وُلِدَ بمَكَّةَ 37 - یعنی رسول کریم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام تھامی بھی ہے کیونکہ آپ کی ولادت مکہ میں ہوئی۔بائبل والے تیمان کو صرف جنوبی علاقہ قرار دیتے ہیں اور تیما کو حضرت اسمعیل کا ایک بیٹا قرار دیتے ہیں جو عرب میں آباد تھا۔پس گو وہ مکہ کو تہامہ نہ قرار دیں لیکن عرب کا ایک حصہ ہونے سے انہیں بھی انکار نہیں ہوسکتا۔اور یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک وقت ایک قوم ایک جگہ آباد ہو اور پھر اٹھ کر ذرا ہٹ کر دوسری جگہ بس گئی ہو۔دوسرے یہ ذکر ہے کہ وہ فاران سے ظاہر ہوا۔اور فاران بھی حضرت اسمعیل کے ایک بیٹے کا نام ہے اور وہ بھی عرب میں تھا۔ان کے علاقہ کو یورپین جغرافیہ والے تسلیم کرتے ہیں کہ عرب میں تھا گو اسے بھی فلسطین کے پاس پاس بتاتے ہیں۔لیکن اس بارہ میں خود عربوں کی شہادت زیادہ معتبر تسلیم کی جائے گی بہ نسبت دوسری قوموں کے۔اور عرب لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیانی جنگل کو بر یہ فاران کہتے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ بتایا چکا ہے وادی فاطمہ نامی پڑاؤ پر اگر پنجہ مریم بیچنے والوں سے پوچھا جائے کہ تم یہ کہاں سے لائے ہو تو یہی کہتے ہیں کہ ہم بر یہ فاران یعنی دشت فاران سے لائے ہیں۔تاج العروس میں لکھا ہے وَفِي الْحَدِيثِ ذُكِرَ جَبَالُ فَارَانَ وَهُوَ اسْمٌ لِجِبَالِ مَكَّةَ بِالْعِبْرَانِی کہ حدیث میں فاران کے پہاڑوں کا جو ذکر آتا ہے اس سے مراد مکہ کی پہاڑیاں ہیں اور یہ نام عبرانی زبان میں مستعمل ہے۔پھر دوسری اور تیسری پیشگوئی یہ ہے کہ آسمان اس کی شوکت سے چھپ گیا اور۔