سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 445

سيرة النبي عمال 445 جلد 3 پھر چھٹی بات آپ کے متعلق یہ بیان کی گئی ہے کہ داؤد کے تخت پر اور اس کی مملکت پر آج سے ابد تک بندو بست کرے گا۔یہ بھی رسول کریم ﷺ کی امت کے متعلق پیشگوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ شام اور فلسطین پر قبضہ انہیں حاصل ہوگا۔پھر اسی کتاب میں ہم عرب کی بابت الہامی کلام پڑھتے ہیں کہ:۔عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا 22۔اس جگہ یہ پیشگوئی بیان کی کہ جو آنے والا نبی ہوگا جب وہ اپنے وطن سے نکالا جائے گا تو ہجرت کے ایک سال بعد اس کی قوم اس پر حملہ کرے گی۔ایک رات میدان میں سوئیں گے اور صبح کو جنگ ہوگی جس میں دشمن شکست کھائے گا اور اس کے بڑے بڑے بہادر مارے جائیں گے۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم ﷺ کی ذات میں بدر کی جنگ سے پوری ہوئی۔اب دیکھو اس میں کتنی باتیں بیان کی گئیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ (1) پہلے اس رسول کو مکہ والے اپنے شہر سے نکالیں گے اور (2) پھر لڑائی کے لئے مکہ والے آئیں گے۔اگر وہی جس نے یسعیاہ پر یہ کلام نازل کیا تھا دنیا پر قابض نہ تھا اور دنیا اس کے ہاتھ میں نہ تھی تو اس نے کیوں اہل مکہ سے پہلے رسول کریم ﷺ کو مکہ سے نکلوایا اور ایک سال کے بعد کس نے ان کو حملہ کرنے کے لئے نکالا۔(3 ) پھر جب انہوں نے حملہ کیا تو اس حملہ میں سارے سردار شامل ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ مکہ کا کوئی