سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 437

سيرة النبي عمال 437 جلد 3 زیادہ تین چار سو سال تک ان کی نسل چلتی ہے اور پھر مٹ جاتی ہے۔مگر حضرت صلى الله ابراہیم اور اسمعیل کے متعلق یہ کہا گیا کہ دو ہزار سال تک یعنی رسول کریم ع کے آنے تک ان کی نسل بہر حال قائم رہے گی۔بیماریوں پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کو تباہ نہ کرسکیں۔لڑائیوں اور جنگوں پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کا خاتمہ نہ کریں۔اسی طرح ہر قسم کے حادثات پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کو مٹا نہ دیں۔اولاد کی اولاد ہوتی چلی جائے گی اور یہ نسل ہمیشہ قائم رہے گی۔تیسری بات اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ابراہیم کی نسل میں سے ایک رسول آئے گا حالانکہ کوئی شخص دعوئی کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی نسل میں کس قسم کے انسان پیدا ہوں گے۔چوتھی بات یہ بتائی گئی کہ وہ اس قوم کی کایا پلٹ دے گا اور وہ لوگ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔کتنے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو پاک ہے کر سکتے ہیں۔ایک شاگرد کو ایک استاد پاک نہیں کر سکتا۔بوعلی سینا کے متعلق مشہور کہ وہ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کو ایک کتاب پڑھا رہے تھے۔پڑھتے پڑھتے ایک شاگرد نے کہا کہ آپ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بھی بڑھ کر ہیں۔بوعلی سینا مومن آدمی تھے مگر علم النفس کے ماہر تھے۔انہوں نے سمجھا کہ ممکن ہے اس وقت اگر میں اسے سمجھاؤں تو اس کی سمجھ میں بات نہ آئے اور یہ ضد میں اور گمراہ ہو جائے اس لئے چپ رہے۔لیکن ایک دن جب کہ سردی کا موسم تھا اور تالاب کا پانی سخت سردی سے جما ہوا تھا انہوں نے اس شاگرد سے کہا کہ کپڑے اتارو اور تالاب میں کود پڑو۔اس نے کہا آپ یہ کیسی احمقانہ بات کر رہے ہیں۔کیا میں پانی میں کود کر مر جاؤں؟ انہوں نے کہا اُس دن تو تم مجھےمحمد علے سے بھی بڑا کہہ رہے تھے اور آج اتنی بات بھی نہیں مانتے۔محمد یہ تو وہ تھے کہ آپ کے ماننے والوں نے کبھی نہ کہا کہ ہم مر جائیں گے۔