سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 436

سيرة النبي علي 436 جلد 3 کرتے ہیں کہ اس ملک میں جو ہماری آئندہ نسل پھیلے گی اس میں سے تو ایک رسول بھیج جس کے یہ کام ہوں کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِك وہ تیری آیات انہیں پڑھ کر سنائے وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب شریعت کی باتیں انہیں سکھائے وَالْحِكْمَةَ اور احکام کی حکمتیں ان پر واضح کرے وَيُزَ كَيْهِمْ اور انہیں پاک کرے اور بدیوں سے بچائے۔یہ دعا چار ہزار سال پہلے ایسی جگہ پر کی گئی جہاں نہ غلہ پیدا ہوتا تھا اور نہ کسی تم کی کھیتی۔زمزم کا چشمہ جو نشان کے طور پر قائم ہوا اس کا پانی بھی کھاری ہے جسے ہندوستانی نہیں پی سکتے۔اس کھاری پانی کے چشمہ کے پاس چند گھر آباد تھے۔وہاں پتھروں کا ایک مکان بناتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! جو لوگ یہاں پیدا ہوں ان میں تو اپنا ایک رسول بھیج جو تیری ہستی کے دلائل انہیں بتائے ، لوگوں کو تیری شریعت سکھائے ، اس شریعت کی حکمت یعنی باریکیاں بتائے کہ شریعت پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے۔پھر ان کو پاک بنائے۔اس دعا پر اگر غور سے کام لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل امور کی خبر دی گئی ہے۔اول اس عرصہ تک کہ اس نبی کی بعثت کی ضرورت پیش آئے مکہ قائم رہے گا۔اب طبعی صورت تو یہ ہے کہ آندھیاں آتی ہیں جو شہروں کے شہر برباد کر دیتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں جو بڑے بڑے شہروں کو تو دہ خاک بنا دیتے ہیں۔مگر یہاں پہلے سے خبر دے دی گئی کہ تمام قسم کے حادثات اس آبادی کو اجاڑ نہ سکیں گے اور آخر ایسا ہی ہوا۔دوسری بات یہ بتائی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہمیشہ قائم رہے گی کیونکہ کہا یہ گیا کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ۔اس سے معلوم ہوا کہ اس رسول کے آنے تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل موجود ہوگی۔دنیا کے اکثر گھرانے ایسے ہوتے ہیں کہ زیادہ۔