سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 435
سيرة النبي علي 435 جلد 3 سیرت رسول علیہ کے متفرق پہلو 28 دسمبر 1932ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے فضائل القرآن کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے سیرت رسول ﷺ کے متفرق پہلو بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔رسول کریم ﷺ نے تیرہ سو سال ہوئے دعوی کیا کہ میں خدا کی طرف۔ہوں۔آپ نے دعوی کیا کہ زمین و آسمان پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور آپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات میری تائید میں ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پیدائش کے ساتھ ہی وہ دنیا جو ایک نظام کے ماتحت چل رہی تھی اس میں ایسے تغیرات رونما ہونے لگ جاتے ہیں جو آسمانی کلام کے ماتحت ہوتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اسی ہستی کے احکام کے ماتحت چل رہی ہے جس کی طرف سے قرآن آیا۔بعثت محمدی کے متعلق حضرت ابراہیم کی دعا اس کے ثبوت کے لئے کس طرح آسمان اور زمین کی بادشاہت ایک ہستی کے ماتحت چل رہی ہے میں آج سے چار ہزار سال پیچھے جاتا ہوں۔آج سے چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیادیں بلند کرتے ہوئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ 1۔یعنی اے خدا! ہم تجھ سے یہ دعا