سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 431
سيرة النبي علي 431 جلد 3 علومة اب تمہیں کون میرے حملہ سے بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ۔جس یقین کے ساتھ ، جس وثوق کے ساتھ ، جس عبادت اور استعانت کے خیال کے ساتھ آپ کی زبان ے یہ فقرہ نکلا اس کا یہ اثر ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ منزلیں مارتا ہوا اپنی قسم پوری کرنے کے لئے آیا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ جانتا تھا کہ اپنی زندگی میں سے یہ پہلا موقع حاصل ہوا ہے اس کا ہاتھ لرز گیا اور تلوار ہاتھ سے گر گئی۔اس پر رسول کریم کے نے وہی تلوار ہاتھ میں اٹھائی اور فرمایا بتا اب تجھے میرے حملہ سے کون بچا سکتا ہے؟ اس شخص کو رسول کریم ﷺ سے سن کر بھی سمجھ نہ آئی اور کہنے لگا آپ ہی رحم فرمائیں۔صلى الله رسول کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ چلے جاؤ تمہارا خون اس قابل نہیں کہ محمد ہے اسے بہائے 3۔اور آپ سمجھ گئے جس شخص کے دل میں خدا نہیں اس کی زبان پر بھی وہ نہیں آسکتا۔یہ اس زندہ خدا کی عبادت کا کرشمہ تھا جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں مصنوعی عبادات کا نتیجہ بھی دیکھ لو۔فتح مکہ کے موقع پر تمام کفار سمجھتے ہیں کہ اب ان کے لئے کامیابی کا کوئی راستہ نہیں اور یہ کہ تمام دروازے ان کے لئے بند ہو چکے۔ایسے موقع پر میں ایک ایسے فرد کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں جو کفر میں بہت بڑھا ہوا تھا۔رسول کریم معہ فتح مکہ کے وقت عورتوں سے بیعت لے رہے تھے اور آپ کے ارد گرد ہجوم تھا آپ نے اعلان کرا دیا تھا کہ بعض شریروں کو مکہ بھی پناہ نہیں دے سکتا وہ جہاں بھی کہیں مل جائیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ان میں سے ایک ہندہ بھی تھی۔بیعت لیتے وقت آپ نے کہا کہو ہم شرک نہیں کریں گی۔عورتوں نے کہا ہم شرک نہیں کریں گی۔اس پر ہندہ جو بڑی دلیر اور بہادر عورت تھی اور جس نے بعد میں اپنی جرات اور بہادری کا ثبوت بھی پیش کر دیا اور جو چوری چھپے بیعت کے لئے آئی ہوئی تھی۔جب رسول کریم ﷺ نے یہ اقرار لینا چاہا کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو وہ بول اٹھی کہ کیا اب بھی کوئی شرک کر سکتا ہے جبکہ ہم نے سارا زور لگایا مگر تو اکیلا ہو کر جیت گیا اور ہمارے معبود ہمارے کسی کام نہ آئے۔کیا اتنے بڑے نشان کے بعد بھی