سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 421
سيرة النبي عمال 421 جلد 3 اطلاع نہ دے سکا۔دوران سفر میں اسے بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھانے لگ جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ احساس ہے کہ ممکن ہے یہ کسی اور کا ہو۔اس صورت میں اگر چہ کھانا اسی کا ہے لیکن اس احساس کی وجہ سے اس کے دل پر چوری کا زنگ لگتا جائے گا۔تو اصل چیز احساس ہوتا ہے اور اسلام نے ان تعلقات سے گناہ کے احساس کو مٹا دیا۔اور پھر یہ بتایا کہ شادی محبت کے اجتماع کا نام ہے اور چونکہ محبت جب پورے جوش پر ہو تمام دوسرے تعلقات دب جاتے ہیں اس لئے شریعت نے حکم دیا کہ جب میاں بیوی ملیں تو دعا کریں اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَنَ وَ جَيِّبِ الشَّيْطَنَ مَا رَزَقْتَنَا یعنی اے اللہ ! ہمیں بھی شیطان سے بچا اور اس میل کے نتیجہ میں اگر کوئی اولاد ہونے والی ہے تو اسے بھی بچا۔میاں بیوی کی محبت پاک ہی سہی مگر ایسا نہ ہو کہ ادنی خیالات اعلیٰ پر غالب آجائیں اور اس طرح محبت کے جذبات کے غلبہ کے باعث جس نقصان کا احتمال ہوسکتا تھا اس کا بھی انسداد کر دیا۔پھر اس موقع پر جس قدر توجہ ایک دوسرے کی طرف ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں روحانی طاقتیں باہر کی طرف جاتی ہیں۔میاں بیوی کا یہ تعلق ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے میں جذب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں ایسی رو پیدا ہوتی ہے کہ دماغی تو جہات کو ایک ہی طرف بدل دیتی ہے اس کے لئے اسلام نے غسل رکھا تا ایسا نہ ہو کہ دماغ اس طرف لگا رہے بلکہ جسم ٹھنڈا ہو کر بھاپ بند ہو جائے۔گویا غسل ان نقائص کو دور کرنے کے لئے ہے جو باہم ملنے سے قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے تھے۔اور غسل کے ذریعہ پھر ان طاقتوں کو مجتمع کر دیا تا دوسری طرف ان کو لگایا جا سکے۔پھر ان تعلقات کو محدود کیا۔بعض حالتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں میاں بیوی کا آپس میں ملنا درست نہیں ہوتا۔بعض شرائع نے ایسی حالت کو گند قرار دیا ہے اور تورات کا حکم ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو اسے الگ رکھا۔جائے اور ہاتھ تک نہ لگایا جائے۔بعض نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر وقت مرد و عورت مل سکتے ہیں لیکن یہ دونوں باتیں تمدن کے لئے تباہ کن ہیں۔اگر بالکل علیحدہ کر دیا جائے