سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 416
سيرة النبي عليه 416 جلد 3 خاوند ہو جاتا۔خواہ وہ بدصورت ہی ہو یا جاہل یا نقائص اخلاقی اپنے اندر رکھتا ہو۔انگریزوں میں لڑکی کی مرضی سے شادی کا دستور ہے مگر وہ مرضی بھی غیر مرضی کے برابر ہے۔وہاں یہ طریق ہے کہ لڑکی لڑکا آپس میں ملیں ، ایک دوسرے سے محبت کریں اور جب پسند آ جائے تو شادی کر لیں۔کسی اور کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے چونکہ جذبات کی دنیا سب کے دنیا سب پر غالب ہے اس طریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہنگامی جذبات کے ماتحت وہ اخلاق و شرافت وغیرہ تمام اوصاف بھول جاتے ہیں۔صرف مال اور حسن وغیرہ کو دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور جذبات جب ابھرتے ہیں تو عقل اور ہوش و حواس کھو دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے چور، ڈاکو اپنے آپ کو شریف اور امیر زادہ ظاہر کر کے امرا کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور پھر نتباہ کر دیتے ہیں۔سات آٹھ سال کا عرصہ ہوا اخباروں میں ایک شادی کا بہت چرچا رہا۔جرمنی میں ایک شخص آیا اور اس نے اپنے آپ کو روس کا شہزادہ ظاہر کر کے قیصر جرمنی کی ہمشیرہ سے شادی کر لی حالانکہ وہ فی الواقعہ کسی باورچی خانہ میں برتن مانجھنے والا تھا جس نے کسی نہ کسی طریق سے روپیہ حاصل کر کے یہ فریب کیا جو جلد ہی ظاہر ہو گیا۔تو محض اپنی مرضی کی شادی کا انجام بھی اچھا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس حالت میں اخلاق اور شرافت وغیرہ امور کو کوئی نہیں دیکھتا مال و دولت یا حسن پر لٹو ہو جاتے ہیں۔اسلام نے شادی کے متعلق جو تعلیم دی اس سے پہلے شادی کی حکمت بتائی اور پھر بتایا کہ شادی کیونکر کرنی چاہئے۔میاں بیوی کی ذمہ داریاں کھول کھول کر بیان کیں ، نتائج بتائے اور پھر بتایا کہ شادی دونوں کی مرضی سے ہونی چاہئے مگر اس طرح کہ اس میں ماں باپ کی مرضی بھی شامل ہو۔اکیلے ماں باپ بھی اپنی مرضی سے اپنی لڑکی کی شادی نہیں کر سکتے مگر لڑ کی بھی صرف اپنی مرضی سے ان کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتی۔اگر صرف ماں باپ کی مرضی ہو تو بعض ماں باپ ایسے بھی ہوں گے جو صرف روپیہ دیکھیں گے لیکن لڑکی تو یہ بھی دیکھے گی کہ میری ساری ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتا ہے یا