سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 415
سيرة النبي عمال 415 جلد 3 روپیہ لے لیں گے حالانکہ یہ حماقت ہے۔اگر قیمت ہی لینی ہے تو زیادہ سے زیادہ لینی چاہئے۔غالب نے کہا ہے ے وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو یعنی اگر مجھے سر ہی پھوڑنا ہے تو اے معشوق تیرے دروازہ پر ہی کیوں پھوڑوں۔جہاں چاہوں پھوڑ سکتا ہوں۔اسی طرح اگر لڑکیوں کو بیچنا ہی ہو تو زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں کیوں نہ لے جائیں۔ہمارے ملک میں نوے فیصدی زمیندار لڑکیوں کو بیچتے ہیں اس کے لئے با قاعدہ سودا کرتے ہیں اور دوسو، چارسو، پانچ سو، ہزار غرض کہ جس قدر بھی قیمت مل سکے وصول کرتے ہیں۔وہ اپنی لڑکیوں کے لئے اچھا خاوند تلاش نہیں کرتے بلکہ جو زیادہ پیسہ دے اور اس طرح بسا اوقات جوان لڑکیاں بوڑھوں سے، شریف بدمعاشوں سے لائق نالائقوں سے اور عقلمند بیوقوفوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔گویا ایک طریق زور سے شادی کر دینے کا تو یہ ہے کہ ماں باپ قیمت لے کر جہاں چاہیں لڑکی کو بیاہ دیں۔اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے خاوند کی اگر موت بھی ہو جائے تو لڑکی آزاد نہیں ہو سکتی اسے خاوند کے بھائی یا کسی اور رشتہ دار سے بیاہ دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے قیمت ادا کر کے اسے خریدا ہوتا ہے۔اور بیوہ ہو جانے کی صورت میں اگر ماں باپ اسے اپنے گھر لاتے ہیں تو چوری یا کسی حیلہ سے کیونکہ بصورت دیگر جہاں لڑکی بیاہی ہوتی ہے وہ ادا کردہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس طرح ایسی لڑکی نہ صرف خاوند کی زندگی میں بلکہ اس سے آزادی کے بعد بھی قید ہی ہوتی ہے۔دوسرا طریق یہ ہے جو ہندوؤں یا انگریزوں میں بھی رائج تھا کہ مرد جبر سے لے جائے۔بڑے بڑے راجے مہاراجے اپنی لڑکیوں کو پیش کر دیتے کہ کون اسے چھین کر لے جاتا ہے اسے سوئمبر کی رسم کہا جاتا۔بڑے بڑے راجے مہاراجے امیدوار ہو کر آتے۔طاقتوں کا مظاہرہ کرتے اور جو سب کو مغلوب کر لیتا وہ اس لڑکی کا