سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 412

سيرة النبي علي 412 جلد 3 چاہئے جو یہ بتائے کہ وہ کون لے۔اکٹھے مل کر رہنے کے لئے کوئی اصول مقرر کر کے ان پر چلنا ہوگا وگر نہ سر پھٹول جاری ہو جائے گی اور اسی غرض سے دنیا نے کئی انتظام کئے ہیں۔تمدن کے دوام کیلئے عورت مرد مل کر رہتے ہیں جو میاں بیوی کہلاتے ہیں وہ آئندہ نسل کی ذمہ داری اپنے سر پر لیتے ہیں اسے خاندان کہا جاتا ہے۔پھر محلہ والوں کے ساتھ تعلقات کو نظام میں لانے کے لئے اور قوانین کی ضرورت ہے۔پھر ان قوانین پر عمل کرانے کے لئے راجہ یا نواب یا بادشاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر ایک دوسرے سے لین دین ، شادی نمی ، موت پیدائش وغیرہ معاملات کے لئے آئین وضوابط ضروری ہیں اس کے لئے قضا یا جوں وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے۔گویا ان قوانین کا نام جن سے بنی نوع انسان آرام سے رہ سکیں اور باہمی جھگڑے دور ہو جائیں تمدن ہے۔اس کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انتظام کو لوگ قبول کیوں کریں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ قانون فلاں نے اس لئے بنایا ہے کہ مجھے نقصان پہنچائے میں اسے نہیں مانتا۔تمدن قائم کرنے والے کہتے ہیں ایسی مشکلات کو دور کرنے کیلئے بادشاہ چاہئے جس کے پاس فوج اور پولیس ہو تاکہ لوگوں کو سزا دے کر ٹھیک کر دے۔مگر کہا جا سکتا ہے کہ اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جن کے پاس زیادہ زور ہوگا وہی حکومت کرے گا۔اگر یہ اصول صحیح مان لیا جائے تو رعایا میں سے جس کا زور چلے گا وہ بھی چلائے گا اسے پھر ہم کس اصول کی بنا پر روک سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج تک دنیا نہیں دے سکی۔یہی وجہ ہے کہ بغاوت کو دور کرنے یا اسے ناجائز منوانے کیلئے دنیا کے پاس کوئی دلیل نہیں۔جو دلیل دی جائے باغی وہی بادشاہ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔گویا جو تمدن کی بنیاد ہے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ کیوں ایک دوسرے کی بات مانیں اور کیوں اپنا حق چھوڑ دیں۔اس کا جواب دنیا معلوم نہیں کر سکی لیکن رسول کریم ﷺ نے اس سوال کا جواب دیا ہے۔فرمایا دیکھو تمہارے تمدنی اختلافات کی بنیاد یہ ہے کہ ہم کیونکر یہ مان لیں کہ جس