سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 410
سيرة النبي الله 410 جلد 3 ہے۔یہی حال اطبا کا ہے۔حضرت خلیفہ اول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے (اب تو اطباء بھی انگریزی ادویہ کا استعمال کرنے لگ گئے ہیں مگر پہلے ان کا تعصب ڈاکٹروں سے بھی بڑھا ہوا تھا) ایک رئیس کا بچہ بیمار تھا اس نے آپ کو بھی بلایا۔آپ فرماتے میں گیا تو سول سرجن بھی وہاں موجود تھا۔وہ تھرما میٹر لگا کر ٹمپریچر دیکھنا چاہتا تھا مگر ان کا خاندانی طبیب کہہ رہا تھا میں جاتا ہوں۔انگریزی ادویہ تمام گرم خشک ہوتی ہیں تھرما میٹر سے بچہ مر جائے گا۔رئیس نے آپ سے کہا حکیم صاحب کو سمجھا ئیں۔آپ نے کہا حکیم صاحب! بے شک انگریزی ادویہ گرم خشک ہوتی ہیں مگر یہ دوائی نہیں یہ تو آلہ ہے۔لیکن حکیم صاحب کہاں مانتے تھے کہنے لگے انگریزوں کی ہر چیز گرم خشک ہوتی ہے میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔اب کوئی ماں باپ ایسا نہیں کر سکتے۔انہیں اس سے غرض نہیں ہوگی کہ طب یونانی جیتی ہے یا انگریزی۔ان کا مقصود تو یہ ہوگا کہ جس طرح بھی ہو بچے کی جان بچ جائے اس لئے ماں باپ کی رائے زیادہ صحیح ہوتی ہے اور الا ما شاء الله عام طور پر لوگ اس بات کو خوب جانتے اور رکھتے ہیں کہ اچھا ڈاکٹر اور اچھا وکیل کون سا ہوتا ہے۔تو جو شخص بنی نوع انسان کی محبت اپنے دل میں رکھے گا اس کے اصول یقیناً صحیح ہوں گے۔قطع نظر اس سے کہ الہی کلام صحیح ہونا چاہئے۔اگر فلسفیانہ نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احساس دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ وسیع ہے۔کیونکہ جتنی محبت ہو اتنا ہی زیادہ اس چیز کا مطالعہ ہوگا اور اس لئے اس کا فائدہ بھی زیادہ ملحوظ رہے گا اور جس کے دل میں بنی نوع انسان کا عشق ہوگا اس کے اصول کی بنیاد زیادہ مستحکم ہوگی اور وہی بات ہوگی کہ ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق جس کے دل میں عشق کی لوگی ہوگی اسے ہر دم یہی خیال ہوگا کہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور یہی مقصد پیش نظر رہے گا کہ اپنے معشوقوں کو دکھ درد سے بچایا جائے۔اُس وقت یہ بات ہوگی کہ