سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 409

سيرة النبي عمر 409 جلد 3 جس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا ويعنى خدا یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔گویا آپ کے دل میں تڑپ تھی کہ یہود و نصاریٰ کیوں اپنے لئے جہنم خرید رہے ہیں اور پھر اپنے ماننے والوں کو تنبیہ کی کہ وہ ایسا نہ کریں۔گویا سکرات موت کے وقت بھی آپ کے اندر مسلمان اور کفار دونوں کی محبت کا جلوہ تھا۔ایک طرف یہود و نصاری کو شرک سے بچانے کا درد تھا اور دوسری طرف یہ درد تھا کہ یہی غلطی میرے ماننے والے بھی نہ کریں۔غرض آپ کی ساری زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے ہر طبقہ کے لئے ہمدردی رکھتے تھے۔آج کے لئے جو مضامین مقرر کئے گئے ہیں وہ دو ہیں ایک یہ کہ آنحضرت کے نے تمدن کی بنیاد مستحکم اصول پر رکھی اور دوسرے یہ کہ آپ نے احکام کی حکمتیں بیان کیں۔یہ دونوں اکٹھے بھی بیان ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی۔لیکن میں اکٹھا ہی بیان کروں گا۔میرے نزدیک تو وہ شخص جس کے دل میں انسان کی محبت ہے یعنی بنی نوع انسان کی ایک فرد یا بعض افراد کی نہیں بلکہ سب کے سب کی اس کے کام یقیناً ایسی حکمت پر مبنی ہوں گے جو فائدہ کا موجب ہو۔انسان تبھی بے عقلی کا کام کرتا ہے جب وہ اپنے خود ساختہ اصول کو مقدم رکھے اور بنی نوع انسان کے فائدہ کو مؤخر کرے۔ایسا شخص جب بھی کوئی فیصلہ کرے گا ضرور نامعقول باتیں کرے گا۔لیکن جو بنی نوع انسان کا فائدہ چاہتا ہے اس کے اصول میں بعض اوقات تغیر و تبدل بھی ہوگا۔مثلاً ایک بچہ بیمار ہے طبیب اور ماں باپ دونوں کا اس سے تعلق ہے۔اگر ڈاکٹر کی دوائی سے فائدہ نہیں پہنچتا تو ماں باپ چاہیں گے کہ کسی طبیب کو بھی مشورہ کے لئے بلا لیں لیکن ڈاکٹر کہے گا کہ اگر طبیب کو بلاتے ہو تو میں جاتا ہوں۔کیوں؟ اس لئے کہ اسے بچہ کی جان بچانے سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے اصول کی برتری منوانا چاہتا