سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 408

سيرة النبي عليه 408 جلد 3 کھینچتی ہے اور پھر دنیا میں آتی ہے اور بعینہ اسی طرح جس طرح مشرق سے نکل کر آفتاب کی شعائیں روئے زمین پر پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں اس کی محبت بھی پھیلتی ہے۔مشرق و مغرب، گورے اور کالے، خوبصورت اور بدصورت سب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔پھر وہ مکان کی حد بندیوں کو توڑتی ہوئی نکل جاتی ہے اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی ہیں مگر وہ محبت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو دنیا سے اٹھا لے۔پھر یہ ایک وقت کی بات نہیں یوں تو ہر نیک بندے پر محبت کے ایام کبھی کبھی آتے ہیں۔حضرت نظام الدین اولیاء کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں ایک خوبصورت لڑکا گزرا آپ نے آگے بڑھ کر اس کا منہ چوم لیا۔اس پر شاگردوں نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا کہ شاید اس میں جلوہ الہی ہو۔ایک شاگرد جو آپ کے خاص منظور نظر تھے انہوں نے ایسا نہ کیا باقیوں نے اس پر چہ میگوئیاں شروع کیں۔آگے چلے تو ایک بھٹیاری بھٹی میں آگ جلا رہی تھی اور پتوں کی آگ کے شعلے جیسا کہ بہت بلند ہوتے ہیں نکل رہے تھے جو ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔آپ کھڑے ہو کر اسے دیکھتے رہے پھر جھکے اور شعلہ کو بوسہ دیا۔اُس وقت اس شاگرد نے بھی شعلہ کو چوما جس نے لڑکے کو نہیں چوما تھا لیکن باقی شاگر دکھڑے رہے اور کسی کو جرات نہ ہوئی۔اس پر انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے خوبصورت بچے کو چوما تھا کیونکہ چھوٹا بچہ سب کو پیارا لگتا ہے حالانکہ خواجہ صاحب کو اس میں خدا کا جلوہ نظر آتا تھا اس لئے انہوں نے چوما تھا لیکن مجھے چونکہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے نہ چوما۔اب اس آگ میں مجھے نظر آیا اور میں نے اسے چوم لیا اور یہاں آپ کی اتباع کی لیکن وہاں میری آنکھیں نہ کھلیں اس لئے نہ کی لیکن تم نے ہوا و ہوس کے ماتحت بچہ کو چوما تھا۔تو وقتی طور پر ہر بزرگ پر ایسا وقت آتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت سے وہ لبریز ہو جاتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت وقتی نہ تھی۔وہ آپ کی روح اور جسم کا ایک حصہ تھی