سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 398
سيرة النبي علي مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔398 جلد 3 دینی پیشواؤں میں تصنع جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ نہایت نیک سمجھیں۔اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر تک وضو کے اعضاء کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پر ہیز کریں گے، سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے، اپنی شکل سے خاص حالت خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے۔مگر آنحضرت عی با وجود اس کے کہ سب سے اتقی اور اور ع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔بچہ کے رونے پر نماز میں جلدی ابی قتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صل الله نے فرمایا إِنِّي لَاقُومُ فِي الصَّلَوةِ أريدُ أنْ أطَوّلَ فِيْهَا فَاسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَاتَجَوَّزُ فِي صَلوتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ اَشُقَّ عَلَى أُمِّه 1 یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔کس سادگی سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔آجکل کے صوفیا تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔مگر آنحضرت ﷺ ان تکلفات سے بری تھے۔آپ کی عظمت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔