سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 387
سيرة النبي علي 387 جلد 3 سے مراد خدا کی محبت کے طلبگار کے ہیں۔بہر حال فرمایا کہ جب کوئی تمہارے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے آئے تو انکار نہ کرنا بلکہ وہ ہدایت جو ہم نے تجھے دی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچانا۔ضال کے جو معنی میں نے اس وقت کئے ہیں اس کے خلاف کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی۔ہم نے تجھے نال پایا اور اس کے نتیجہ میں ہدایت دی۔اور دوسری طرف فرماتا ہے وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفُسِقِینَ 91 کہ فسق کے نتیجہ میں کبھی ہدایت نہیں ملا کرتی۔پھر ضال کے معنی گمراہ کس طرح کئے جا سکتے ہیں۔b پھر فرماتا ہے وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْ مِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أوتِ رُسُلُ اللَّهِ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِيْنَ أَجْرَمُوا صَغَارُ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ 92۔جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اسے نہیں مان سکتے جب تک ہمیں ویسا ہی کلام نہ ملے جو رسولوں کو ملا۔اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔یہ گنہ گار لوگ ہیں ان کو تو ذلت ہی ملے گی۔اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا کہ گناہ کے نتیجہ میں ذلت حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہدایت۔ذَنب اور استغفار کی حقیقت پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ گنہگار تھے اس کے لئے ذنب اور استغفار کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں۔لیکن عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی نہیں سمجھے۔استغفار کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ جو مشکلات کسی کے رستہ میں حائل ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے۔اسی طرح ذنب کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کے بھی۔پس غفر کے معنی ڈھانکنے اور ذنب کے معنی زوائد کے ہیں۔جب رسول کریم ﷺ کے متعلق استغفار کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد آپ کے رستہ کی