سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 385

سيرة النبي عمال 385 جلد 3 نے تیری عزت کی ، اُس وقت بھی تو نے اچھے کام کئے۔پھر وہ زمانہ آیا کہ خدا نے اپنا کلام تجھ پر اتارا تب بھی تو فرمانبردار رہا۔گویا تیری ہر آنے والی گھڑی پہلی سے اعلیٰ اور بہتر رہی ہے اور خدا کی تائید اور اس کی پسندیدگی بڑھتی چلی گئی۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ کی صداقت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے۔عجیب بات ہے خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بچپن سے لے کر آخر تک دیکھ لو۔ایک لمحہ بھی اس کے لئے گمراہی کا نہیں آیا اور خدا تعالیٰ نے اسے نہیں چھوڑا۔مگر نادان مخالف کہتے ہیں کہ آپ گمراہ تھے۔اگر یہی گمراہی ہے تو ساری ہدایت اس پر قربان کی جاسکتی ہے۔پھر فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى۔تیرا ہر قدم ترقی کی طرف چلتا گیا۔بچپن میں انسان بے گناہ ہوتا ہے۔اگر نعوذ باللہ رسول کریم علی بڑے ہو کر گمراہ ہو گئے تو آخرت اولی سے بہتر نہ ہوئی۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلے سے اچھی تھی اور جب ہر ا گلی گھڑی اچھی تھی تو ضلالت کہاں سے آ گئی۔پھر فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضُى 85۔عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے ایسے انعام دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔اس کے متعلق ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وہ کونسی خواہش تھی جس کے پورا ہونے سے آپ خوش ہو سکتے ا تھے۔سورۃ کہف رکوع 1 میں آتا ہے فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا 86 - اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کر رہا ہے کہ لوگ ہمارے کلام پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔یہ خواہش تھی رسول کریم ﷺ کی کہ آپ کی قوم خدا تعالیٰ کے کلام کو مان لے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى تو نے دیکھا ہے کہ تیری ہر گھڑی کو ہم نے پہلی سے اچھا رکھا پھر کیا تمہاری یہ بات ہم رد کر دیں گے کہ تیری قوم ہدایت پا جائے۔ہمیں اس خواہش کا بھی علم ہے اور اسے بھی ہم پورا کر دیں گے۔پھر فرمایا اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوى 87۔اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم)