سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 384

سيرة النبي عليه 384 جلد 3 کا جواب خود اسی سورۃ میں موجود ہے۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک زبردست دلیل دی گئی ہے۔فرماتا ہے وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی 84۔اے دنیا کے لوگوسنو ! عین دو پہر کے وقت کو اور رات کو جب وہ خوب ساکن ہو جاتی ہے اور اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جاتی ہے ہم اس بات کی شہادت میں پیش کرتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا اور نہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ہم کبھی ناراض ہوئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ دو پہر اور آدھی رات اس بات کی کس طرح دلیل ہیں کہ محمد اللہ سے خدا کبھی ناراض نہیں ہوا اور نہ اس نے آپ کو چھوڑا۔یہ ظاہر ہے کہ یہاں ظاہری دن رات مراد نہیں بلکہ مجازی دن رات مراد ہیں۔اور یہ محاورہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ رات اور دن سے خوشی اور رنج اور ہوش اور غفلت کا زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔رات تاریکی ، مصیبت اور جہالت کو کہتے ہیں اور دن ترقی ، روشنی اور علم کے زمانہ کو کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیری عمر کی ان گھڑیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو خوشی کی تھیں اور ان کو بھی پیش کرتے ہیں جو رنج کی تھیں اور تیرے ہوش کے زمانہ کو بھی اور بچپن کے زمانہ کو بھی جو جہالت کا زمانہ ہوتا ہے۔پھر اس زمانہ کو بھی جو نبوت سے پہلے کا تھا اور اسے بھی جب نبوت کا سورج طلوع ہو کر نصف النہار پر آ گیا۔تجھ پر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ تو دایہ کی گود میں تھا۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جو شباب کی تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ زمانہ بھی آیا جب جذبات سرد ہو جاتے ہیں۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ ہر طرف تیرے دشمن ہی دشمن تھے اور تیرے لئے دن بھی رات تھا۔پھر وہ زمانہ آیا جب ساری قوم تجھے امین اور صادق کہتی تھی۔ان سب زمانوں کو دیکھ لو۔کیا کوئی وقت بھی ایسا آیا ہے جب خدا تعالیٰ نے تیری نصرت سے ہاتھ روکا ہو؟ اس کی ناراضگی کسی رنگ میں تجھ پر ظاہر ہوئی ہو؟ بعض لوگ آرام اور عزت حاصل ہونے پر بگڑ جاتے ہیں۔مگر تجھے جب امن ہوا، امیر بیوی ملی ، تیری قوم