سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 383
سيرة النبي علي 383 جلد 3 ہے جس کی جڑ میں بڑی مضبوطی ہوتی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔اسی طرح صادق کی علامت یہ ہے کہ اس کی تعلیم ترقی کرتی ہے اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے۔اب یہ رسول جو دن رات ترقی کر رہا ہے اگر ضلالت پر ہوتا تو جتنی زیادہ تعلیم بناتا اسی قدر زیادہ نقص ہوتے۔مگر اس کے کلام کی زیادتی تو اس کی 82 تعلیم کومکمل بنا رہی ہے۔پھر بتایا اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا۔مگر اس کا کلام تو ایسا ہے کہ وہ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوْحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى 81 = اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے اور اس کو یہ کلام بڑی قوتوں والے خدا نے سکھایا ہے۔ایک اور آیت بھی اس امر کو حل کرتی ہے۔سورۃ بنی اسرائیل رکوع 8 میں آتا ہے وَ اِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِى أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِى عَلَيْنَا غَيْرَهُ وَإِذَا لَا تَخَذُوكَ خَلِيْلًا 22 فرمایا قریب تھا کہ کہ لوگ تجھے عذاب میں مبتلا کر دیں۔عام طور پر لوگوں نے غلطی سے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ رسول کو پھسلا لیں مگر وہ رسول کریم ﷺ کو کہاں پھسلا سکتے تھے۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ قریب ہے کہ یہ لوگ تجھے سخت عذاب دیں اس کلام کی وجہ سے جو تجھ پر وحی کیا گیا ہے تا کہ تو اس سے گھبرا کر کچھ تبدیلی کر لے۔اور اگر ایسا ہو تو یہ ضرور تجھے دوست بنا لیں۔لیکن ان کا خیال ایک جنون ہے وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا 83 اگر ہم نے قرآن نہ بھی نازل کیا ہوتا تو بھی تیری فطرت ایسی پاک ہے کہ یہ بات تو بڑی ہے۔تیری ان سے مشابہت پھر بھی معمولی سی ہوتی۔مگر اب تو تجھے وحی الہی نے ایک صحیح راستہ دکھا دیا ہے اب ان کی یہ خواہش کس طرح پوری ہوسکتی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ پھر وَوَجَدَكَ ضَائًا فَهَدی کا کیا مطلب ہوا۔سواس