سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 372
سيرة النبي عمال 372 جلد 3 کو دیکھتے ہیں تو اس کی نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ایک سورۃ کوثر ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ 50۔رسول کریم ﷺ کے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے، اس کی کوئی نرینہ اولا د نہیں ، اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔رسول کریم ہے کس طرح ابتر نہیں اور آپ کا دشمن کس طرح ابتر ہے؟ اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ۔اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی اور اس میں بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے۔پھر فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۔اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ ، دعائیں کر اور قربانیاں کر۔پھر جب ہم تیری جماعت کو اور بڑھانے لگیں تو تو اور عبادت کر اور قربانیاں کر کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں۔اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابوجہل کا بیٹا چھینیں گے اور تجھے دے دیں گے۔وہ ابتر ہو جائے گا اور تو اولاد والا ہوگا۔یہی حال دوسروں کا ہوگا۔ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کے بیٹے رسول کریم ع کو دیئے گئے اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے۔یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم ﷺ کو کامیابی ہوتی گئی کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے سورۃ انبیاء رکوع 4 میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الْغُلِبُونَ 51 - فرمایا کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ ہم ان کے ملک کو اس کے کناروں کی طرف سے چھوٹا کرتے جارہے ہیں اور ہر روز ان کی اولا دیں محمد رسول اللہ ﷺ کو دے رہے ہیں۔کیا اس