سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 369

سيرة النبي ما 369 جلد 3 کہ شیطان نے آیتیں نازل کیں یعنی تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لتر تجی کے بعد کہتے ہیں کہ یہ آیات اتریں۔اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى تِلْكَ اِذَا قِسْمَةٌ ضِيْزُى إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءُ سَمَّيْتُمُوْهَا أَنْتُمْ وَابَاؤُكُمْ مَّا أَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطن 41 - فرمایا کیا تم اپنے لئے تو بیٹے قرار دیتے ہو اور خدا کے لئے لات، منات اور عزئی بیٹیاں۔یہ کس قدر بھونڈی تقسیم ہے جو تم نے کی۔یہ نام تم نے اپنے طور پر رکھ لئے ہیں خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئے۔خدا نے تو ان بتوں کے لئے اتارا ہی کچھ نہیں۔کیا ان آیات کے بعد کوئی شخص ان فقروں کو درمیان میں شامل سمجھ سکتا پس یہ آیات ہی بتا رہی ہیں کہ ان میں وہ فقرے داخل نہیں ہو سکتے۔آخر کفار عربی تو ہے؟ جانتے تھے۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیتیں بھی اس حصہ کو رد کر رہی ہیں۔فرمایا وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيطِيْنُ وَمَا يَنْبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ 42۔یعنی اس میں شیطانی کلام کا اس قدر رد ہے کہ اسے شیطان اتا ر ہی کس طرح سکتا ہے۔پھر اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا چاہیں تو ملا ہی نہیں سکتے۔کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی جو کچھ ملائیں گے بے جوڑ ہوگا جیسا کہ یہاں ہوا ہے۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے هَلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيْهِ يُلْقَوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كُذِبُونَ 43 - کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس طرح اترتے ہیں؟ شیطان کا تعلق ہر آفاک اور آنیم کے ساتھ ہوتا ہے۔یعنی جو بڑا جھوٹ بولنے والا اور گنہگار ہو اس سے شیطان کا تعلق ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو تم خود کہتے ہو کہ اس سے بڑھ کر سچا اور کوئی نہیں۔اس کے امین ہونے کے بھی تم قائل ہو۔پھر اس پر شیطان کا تصرف کس طرح ہو سکتا ہے۔پھر فرماتا ہے اِنَّ الشَّيطِيْنَ لَيُوْحُونَ إِلَى أَوْلِيْهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ 44 کہ شیطان تو اپنی وحی شیطانوں کی