سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 368
سيرة النبي عليه 368 جلد 3 b الشَّيْطنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ أَيتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 40 فرمایا تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹا دیتا ہے اور جو اس کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے۔کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل کی تو رسول کریم ﷺ کی تسلی ہو صلى الله گئی۔تسلی کس طرح ہوئی ؟ اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہو گئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارا کبڑا پن دور ہو جائے یا یہ کہ دوسری عورتیں بھی تمہاری طرح کبڑی ہو جائیں ؟ اس نے کہا مجھ پر تو دوسری عورتوں نے جس قدر ہنسی کرنی تھی کر لی ہے اب باقی عورتیں بھی کبڑی ہو جائیں تا کہ میں بھی ان پر ہنسوں۔اس روایت کو درست قرار دینے والوں کے نزدیک رسول کریم مے کی کس طرح تسلی ہوئی۔اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہہ دیا کہ تم پر ہی شیطان کا قبضہ نہیں ہوا سب نبیوں پر ہوتا چلا آیا ہے۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ کا فکر دور ہو گیا۔کتنی نامعقول بات ہے۔ان لوگوں نے کبھی اتنا بھی نہ سوچا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان کا ہر نبی اور رسول پر قبضہ پالینا بڑی حکمت کی بات ہے اور پھر علیم کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔میں بیان کر رہا تھا کہ ایک بزرگ کے قول سے مجھے بڑا مزہ آتا ہے ان کا نام قاضی عیاض ہے وہ اس قسم کی روایتیں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے یہ تو لگ گیا کہ شیطان کا تصرف ہوا مگر رسول کریم ﷺ پر نہیں بلکہ ان روایتوں کو نقل الله کرنے والوں کی قلموں پر ہوا ہے۔یہ بہت ہی لطیف بات ہے۔قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے وہ اسی جگہ موجود ہے جہاں کہتے ہیں