سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 367
سيرة النبي علي 367 جلد 3 آپ کی زبان پر جاری کر دیئے کہ وَ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرتَجی۔کیا تم نے لات اور عزیٰ اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی۔یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے۔چونکہ سورۃ نجم کے صلى الله آخر میں سجدہ آتا ہے رسول کریم علیہ نے سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کر دیا کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے اور بتوں کو مان لیا ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔گو تاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے اور کیا واقعہ صلى الله میں رسول کریم علی سے ایسا ہوا ؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کیلئے دعا کرتا ہوں۔یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔وہ فرماتے ہیں شیطان نے رسول کریم علیہ پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے رسول کریم ﷺ کو درمیان میں صلى کیوں لایا جائے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورۃ نجم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ دیں۔اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا آپ نے یہ کیا کیا۔میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں۔یہ معلوم کر کے رسول کریم ﷺ کو سخت فکر ہوا۔خدا تعالیٰ نے اس فکر کو یہ کہ کر دور کر دیا کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ ۚ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِى