سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 364
سيرة النبي عمر 364 جلد 3 افْتَريهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ أَخَرُونَ فَقَدْ جَآءُ وَ ظُلْمًا وَ زُورًا یعنی منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بنا لیا گیا ہے اور کچھ لوگ اس میں مدد دیتے ہیں مگر ان کا یہ اعتراض بالبداہت ظلم اور جھوٹ پر مبنی ہے۔کیونکہ کیا مسیحی غلام ایسا کر سکتے ہیں کہ خود اپنے دین پر ہنسی کرائیں ؟ آخر انہیں اس کی کیا ضرورت ہے اور کیا فائدہ ہے کہ وہ اسی بات پر رات دن ماریں کھائیں اور گرم ریت پر گھیٹے جائیں اور ایک بے فائدہ فریب میں شامل ہوں۔پس ایسے مخلص لوگوں پر یہ اعتراض کر کے ان لوگوں نے ظلم اور جھوٹ سے کام لیا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے لوگ ایسا جھوٹ بناسکیں۔دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جن کو تم پرانے قصے سمجھتے ہو وہ قصے نہیں بلکہ آئندہ کے متعلق خبریں اور پیشگوئیاں ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمواتِ وَالْاَرْضِ تو کہہ دے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے۔کوئی انسان ایسا کلام نہیں بنا سکتا۔یہ تو غیب کی باتیں ہیں اور غیب خدا ہی جانتا ہے۔اب ان جوابوں کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور مضبوط ہیں اور و ہیری کا خیال کس قدر بے معنی ہے۔اگر یہاں بھی وہی اعتراض سورۃ نحل والا ہوتا تو اس کا وہی جواب کیوں نہ دیا جاتا جو وہاں دیا گیا ہے۔آخر کیا وجہ تھی کہ اگر یہی سوال سورۃ نحل میں تھا تو اس کا جواب بقول و ہیری کے بیہودہ دیا جا تا۔ایک شخص جو صحیح جواب جانتا ہے اور وہ جواب دے بھی چکا ہے اسے وہ جواب چھوڑ کر اور جواب دینے کی کیا ضرورت تھی۔پس یہ جواب لغو نہیں بلکہ معترضین کی اپنی سمجھ ناقص ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سورۃ نحل میں یہ سوال ہی نہیں کہ کوئی اسے مضمون بنا دیتا ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ نادان لوگ ایک ایسے شخص کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ کوسکھاتا ہے جو خود بھی تھا۔یعنی اپنا مفہوم اچھی طرح بیان نہیں کر سکتا تھا صرف تھوڑی سی عربی جانتا تھا۔( مجھی کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو اپنا مفہوم اچھی طرح ادا نہ کر سکے چنانچہ لغت میں یہ معنی بھی لکھے ہیں )