سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 363
سيرة النبي عمال۔363 جلد 3 انسان تھے اور ان کا وار ایک عورت پر پڑا جو ان کی بہن تھی اس سے انہیں سخت شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے کہا کہ تم جو کچھ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دکھاؤ۔اس نے کہا تم مشرک اور ناپاک ہو پہلے جا کر نہاؤ پھر بتائیں گے۔چنانچہ وہ نہائے اور رہا سہا غصہ بھی دور ہو گیا۔اس کے بعد قرآن کی جو آیات پڑھ رہے تھے وہ انہیں سنائی گئیں۔حضرت عمرؓ کا دل ان کو سن کر پکھل گیا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ۔اس وقت وہ صحابی جن کو انہوں نے چھپایا ہوا تھا وہ بھی باہر آگئے۔حضرت عمرؓ نے کہا بتاؤ تمہارا سردار کہاں ہے میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں۔انہیں بتایا گیا کہ فلاں گھر میں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔حضرت عمر وہاں گئے۔وہاں رسول کریم علیہ اور بعض صحابہ موجود تھے اور دروازہ بند تھا۔جب حضرت عمرؓ نے دستک دی تو صحابہ نے پوچھا کون ہے؟ حضرت عمرؓ نے صلى الله اپنا نام بتایا تو صحابہ نے ڈرتے ہوئے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا عمر آیا ہے۔دروازہ کے سوراخ سے انہوں نے دیکھا کہ تلوار ان کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو۔جب عمر اندر داخل ہوئے تو رسول کریم نے ان کا کرتہ پکڑ کر کہا عمر کس نیت سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا اسلام قبول کرنے کیلئے۔آپ نے فرمایا اللہ اکبر 35۔یہ سن کر باقی صحابہ نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ صحابہ کو دین سکھانے کے لئے الگ مکان میں بلا لیتے۔چونکہ آپ دروازہ بند کر کے بیٹھتے تھے تا کہ کفار شرارت نہ کریں اس لئے کفار کے نزدیک اس قسم کا اجتماع بالکل عجیب بات تھی۔وہ خیال کرتے تھے کہ وہاں قرآن بنایا جاتا ہے۔اور چونکہ انبیاء سابق کے بعض واقعات کی طرف قرآن کریم میں اشارہ تھا وہ یہ خیال کرتے کہ مسیحی اور یہودی غلام یہ باتیں ان لوگوں کو بتاتے ہیں اور دوسرے صحابہؓ سے رسول کریم علی لکھوا لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكُ صلى الله