سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 359

سيرة النبي علي 359 جلد 3 صَلَّى أَرَعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَءَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى اَلَمْ يَعْلَمُ بِأَنَّ اللهَ يَرَى كَلَّا لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةِ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدُ وَاقْتَرِب 33۔یہ سورۃ جو سب سے پہلی سورۃ ہے اسی میں عیسائیت کے تمام مسائل کو رد کر دیا گیا ہے۔پہلا حملہ عیسائیت پر یہ ہے کہ فرمایا خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔عیسائیت کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ انسان کی فطرت میں گناہ ہے۔عیسائیت کہتی ہے انسان فطرتا گناہگار ہے اور عمل سے نیک نہیں بن سکتا اس لئے مسیح کو جو پاک اور بے عیب تھا صلیب پر چڑھا دیا گیا۔اسی طرح وہ انسانوں کے گناہ اپنے اوپر اٹھا کر قربان ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔انسان کی فطرت میں خدا کی محبت رکھی گئی ہے اور اس کی بناوٹ میں ہی خدا سے تعلق رکھا گیا ہے۔اس طرح عیسائیت کا پہلا عقیدہ باطل کر دیا گیا اور بتا دیا گیا کہ کفارہ کوئی چیز نہیں ہے۔اس کی بنیاد اس امر پر ہے کہ انسان گناہ گار ہے لیکن اسلام شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان نیک ہے اور اس کی فطرت میں خدا سے محبت رکھی گئی ہے نہ کہ گناہ۔دوسرا جواب یہ دیا کہ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ خدا جو تیرا رب ہے اس کی یہ شان ہے کہ دوسری چیزوں میں جو صفات پائی جاتی ہیں ان سب سے اعلیٰ صفات اس میں جلوہ گر ہیں۔عیسائیت کہتی ہے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں وہ گناہگار کو نہیں بخش سکتا مگر اسلام کہتا ہے جب انسان اپنے قصور وار کو بخش سکتا ہے اور انسان میں عفو کی صفت ہے تو خدا کیوں نہیں بخش سکتا اور اس میں کیوں یہ صفت نہیں۔اس میں تو بدرجہ اتم یہ صفت ہے کیونکہ وہ اکرم ہے۔یعنی تمام صفات حسنہ میں سب سے بڑھ کر ہے۔تیسرا رد یہ کیا کہ فرمایا عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَهُ يَعْلَمُ۔عیسائیت کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ شریعت لعنت ہے۔لیکن قرآن نے بتایا کہ شریعت میں وہ باتیں ہیں جو انسان عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔انسان اپنی کوشش سے شرعی احکام نہیں بنا سکتے اس لئے