سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 355

سيرة النبي عمال 355 جلد 3 سے ساری سچائیاں اس میں موجود ہیں اور اس لئے اتارا ہے کہ مومنوں کے دل مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہو۔اور ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کسی اور نے قرآن سکھایا ہے مگر جس کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے ( عجمی وہ ہوتا ہے جو عرب نہ ہو یا عرب تو ہو مگر اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح عربی میں بیان نہ کر سکے ) اور یہ جو کلام ہے یہ تو زبان عربی میں ہے اور وہ بھی معمولی نہیں بلکہ خوب کھول کھول کر بیان کرنے والی۔دوسری جگہ فرماتا ہے وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا افْكُ افْتَرَيَهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَآءُ وَظُلْمًا وَّ زُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السّرَّ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا 28 یعنی یہ لوگ کہتے ہیں که قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ صرف ایک جھوٹ ہے جو اس نے بنا لیا ہے اور اس بنانے میں کچھ اور بھی لوگ اس کی مدد کرتے ہیں۔یہ بات کہنے میں انہوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور بڑا افترا باندھا ہے وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا اور وہ کہتے ہیں کہ اس میں پرانے قصے ہیں جولکھوا لیتا ہے۔یعنی دو جماعتیں ہیں ایک مضمون بناتی ہے اور ایک لکھ لکھ کر دیتی ہے۔فَهِيَ تُمْلَی عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا پھر اس کی مجلس میں اسے خوب پڑھتے ہیں تا کہ یاد ہو جائے قُل اَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَ فِي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ کہہ دے اسے خدا نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں کو جاننے والا ہے۔اِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا وہ بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس اعتراض میں آج کل عیسائی بھی شامل ہو گئے ہیں اور بڑے بڑے مصنف مزے لے لے کر اسے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیا پتہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔وہ عیسائی اور یہودی ہی تھے جو باتیں بنا کر ان کو دیتے تھے۔چونکہ اب بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور اسے بہت