سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 354
سيرة النبي علي 354 جلد 3 ساتواں اعتراض ساتواں اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ معلم ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمُ الله رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّمْ مَّجْنُونُ 26۔فرمایا ان نامعقولوں کو کہاں سے نصیحت حاصل ہوگئی حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ درجہ کے معارف بیان کرنے والا رسول آیا مگر یہ لوگ اس سے منہ پھیر کر چلے گئے اور کہہ دیا کہ اسے کوئی اور سکھا جاتا ہے اور مجنون ہے۔مطلب یہ کہ یہ ایسا نادان ہے کہ لوگ اس کو اس کے باپ دادا کے دین کے خلاف باتیں بتا جاتے ہیں اور یہ آگے ان کو بیان کر دیتا ہے۔بعض لوگ رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرتے تھے اور اب تک کرتے ہیں کہ قرآن نہ آپ پر نازل ہوا نہ آپ نے بنایا بلکہ کوئی اور شخص ان کو سکھا دیتا تھا۔مکہ والے کہتے تھے کہ مکہ کا ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کس طرح اپنی قوم کے بتوں کی مذمت کر سکتا ہے اور ان کے مقابلہ میں دوسری قوم کے نبیوں کی تعریف کر سکتا ہے اسے کوئی اور اس قسم کی باتیں سکھا جاتا ہے۔جب وہ حضرت موسی کی تعریف قرآن میں سنتے تو کہتے کہ کوئی یہودی سکھا گیا ہے اور جب حضرت عیسی کی تعریف سنتے تو کہتے کوئی عیسائی بتا گیا ہے۔اس میں ان کو اس بات سے بھی تائید مل جاتی کہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔اس جگہ مجنون حقیقی معنوں میں نہیں آیا بلکہ غصہ کا کلام ہے کیونکہ معلم اور مجنون یکجا نہیں ہو سکتے۔مطلب یہ کہ پاگل ہے اتنا نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے اپنے مذہب اور قوم کے خلاف باتیں سکھاتے ہیں۔قرآن کریم میں دو اور جگہ بھی یہ ذکر آیا ہے۔سورۃ محل رکوع 14 میں ہے قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوْا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌّ لِسَانُ الَّذِي صلى الله يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَالِسَانُ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ 27 - فرمایا اے محمد ! (ع) تو مخالفوں سے کہہ دے کہ قرآن کو روح القدس نے اتارا ہے تیرے رب کی طرف