سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 351

سيرة النبي علي 351 جلد 3 رکھتی ہیں پھر یہ کا ہن کیونکر ہوا۔کاہنوں کی خبریں تو ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کو ایک نے بتائی تھی۔مولوی صاحب نے ایک دفعہ پردہ میں بیٹھ کر ایک ارڈ پوپو کو اپنا ہاتھ دکھایا۔اس نے آپ کو عورت سمجھ کر خاوند کے متعلق باتیں بتانی شروع کر دیں۔جب وہ بہت کچھ بیان کر چکا تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی داڑھی اس کے سامنے کر دی۔یہ دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور پھر کبھی اس محلہ میں نہیں آیا۔غرض کا ہنوں کی خبریں محض خبریں ہی ہوتی ہیں کہ فلاں کے ہاں بیٹا ہوگا ، فلاں مر جائے گا ان میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار نہیں ہوتا۔مگر محمد رسول اللہ ہے جو صلى الله خبریں بتاتے ہیں ان کو کاہنوں والی خبریں نہیں کہا جا سکتا۔یہ تو ایمان کو تازہ کرنے والی اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہیں۔رسول کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں جو میرا مقابلہ کرے گا وہ ناکام رہے گا اور جو مجھے مان ہے لے گا جیت جائے گا۔مگر کوئی کا ہن یہ نہیں کہہ سکتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُونَ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کا ہن کا قول ہے۔ان کی عقل ایسی ماری گئی ہے کہ اتنی پیشگوئیاں سنتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت اور جبروت کا اظہار ہے مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔دوسرا روّ اس کا یہ فرمایا فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَالَا تُبْصِرُونَ اِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِيْنَ 23۔یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کو بھی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کو بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔یعنی اس کے ظاہری اور باطنی دونوں حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ قرآن ایک عزت والے رسول کا کلام