سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 350

سيرة النبي عمال 350 جلد 3 میں نے سارا زور لگایا اور کوشش کی کہ آپ پر اثر ڈالوں مگر اُس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک شیر مجھ پر حملہ کرنے لگا ہے۔یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا اور واپس چلا آیا۔لاہور جا کر اس نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھا کہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ آپ بہت بڑے ولی اللہ ہیں۔کسی نے اسے کہا کہ تم نے ولی اللہ کس طرح سمجھ لیا۔ہوسکتا ہے وہ مسمریزم میں تم سے زیادہ ماہر ہوں۔اس نے کہا مسمرائیزر کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاموش ہو کر دوسرے پر توجہ ڈالے۔مگر وہ اس وقت دوسروں سے باتیں کرتے رہے تھے اس لئے وہ مسمرائیز رنہیں ہو سکتے۔پانچواں اعتراض ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ کا ہن ہیں۔کاہن وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف علامات سے آئندہ کی خبریں بتاتے ہیں۔چنا نچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ 21 لوگ تجھے کا ہن کہتے ہیں حالانکہ تیرا کلام ایسا نہیں۔مگر یہ لوگ بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جہاں دو جگہ مسحور کا ذکر آیا ہے وہاں دونوں جگہ یہ آیت بھی ساتھ آئی ہے کہ اُنظُرُ كَيْفَ ضَرَبُوْالَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا۔اسی طرح کا ہن کا لفظ بھی دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ ذکر کا لفظ ساتھ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کا ہن اور مذکر دونوں اضداد میں سے ہیں۔چنانچہ سورۃ طور رکوع 2 میں آتا ہے فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنِ وَلَا مَجْنُونِ 22 ان لوگوں کو نصیحت کر کیونکہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ کا ہن ہے نہ مجنون۔یعنی کا ہن مڈگر نہیں ہو سکتا اور مڈگر کا ہن نہیں ہوسکتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کا ہن در حقیقت ارڈ پوپو کی قسم کے لوگوں کو کہتے ہیں جو بعض علامتوں وغیرہ سے اخبار غیبیہ بتاتے ہیں۔چونکہ رسول کریم یہ غیب کی اخبار بتاتے تھے بعض نادان آپ ﷺ کو کا ہن کہہ دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی اخبار تو محض اخبار ہوتی ہیں اور اس کی اخبار تذکیر کا پہلو رکھتی ہیں اور اصلاح نفس اور اصلاح قوم سے تعلق صلى الله