سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 349
سيرة النبي علي 349 جلد 3 چنانچہ فرماتا ہے اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا 18 یعنی ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم ایک مسحور کی پیروی کر رہے ہو۔پھر اس جگہ اور سورۃ فرقان میں بھی اس کے معاً بعد یہ آیت آتی ہے اُنْظُرُ كَيْفَ ضَرَبُوْالَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا 19۔یعنی دیکھ یہ کیسی باتیں تیرے لئے بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ سارا زور تیرے پیش کردہ کلام کے رد میں لگا رہے ہیں اور نا کامی اور نامرادی کی وجہ سے ان کی جانیں نکلی جا رہی ہیں مگر پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ اس پر کسی جادو کا اثر ہے۔اگر یہ بات ہے تو پھر اس کمزور کے مقابلہ سے یہ لوگ کیوں عاجز آ رہے ہیں۔مسحور تو دوسروں کا تابع ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو اپنے تابع کر رہا ہے اور دوسرے تمام لوگ اس کے مقابل پر عاجز ہیں۔صلى الله مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس اعتراض میں مسلمان بھی کافروں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ رسول کریم پر ایک دفعہ جادو کر دیا تھا اور اس کے اثرات بڑے لمبے عرصہ تک آپ پر رہے۔اور اس میں وہ امام بخاری کو بھی گھسیٹ لائے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں وہ صاف طور پر پڑھتے ہیں وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 20 خدا تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملہ سے محفوظ رکھے گا۔اگر لوگ رسول کریم ﷺ پر سحر کر سکتے تھے تو پھر يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کس طرح درست ہوا ؟ ہم تو دیکھتے ہیں رسول کریم ہے تو الگ رہے آپ ﷺ کے غلاموں پر بھی کوئی سحر نہیں کر سکتا۔ایک شخص نے ایک احمدی دوست سے بیان کیا کہ میں مسمریزم میں بڑا ماہر ہوں۔ایک دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ مرزا صاحب کے پاس جا کر ان پر مسمریزم کروں اور لوگوں کے سامنے ان سے عجیب و غریب حرکات کراؤں۔یہ خیال کر کے میں ان کی مجلس میں گیا اور ان پر توجہ ڈالنے لگا مگر وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑے اطمینان کے ساتھ باتیں کرتے رہے اور ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔پھر میں نے اور زور لگایا مگر پھر بھی کوئی اثر نہ ہوا۔آخر الله