سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 344
سيرة النبي مله 344 جلد 3 کہتے ہو مگر سب سے زیادہ عقلمند لکھنے پڑھنے والے عالم سمجھے جاتے ہیں اور مصنفین کو بڑا دانا تسلیم کیا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں ان عقلمندوں کی باتیں مقابلہ کیلئے لاؤ۔دنیا کی تمام کتا ہیں جو اب تک لکھی جا چکی ہیں انہیں اکٹھا کر کے لاؤ۔یہ نہیں فرمایا کہ جو اپنی طرف سے لوگوں نے لکھی ہیں بلکہ فرمایا جو لکھی گئی ہیں گو یا مذہبی اور آسمانی کتابیں بھی لے آؤ یا اعلیٰ درجہ کے علوم کی کتابیں جو لائبریریوں میں محفوظ رکھی جاتی ہیں وہ نکال کر لاؤ۔اگر یہ سب کی سب کتابیں اس کے مقابلہ میں پیچ ثابت ہوں تو انہیں ماننا چاہئے کہ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو مجنون نہیں ہے۔دیکھو! یہ کتنا بڑا دعوئی ہے اور کتنی زبر دست دلیل ہے۔یہ اُس زمانہ کے لوگوں کو دلیل دی۔اور بعد میں آنے والوں کو یہ دلیل دی کہ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنِ - آئندہ بھی جو لوگ تجھے پاگل کہیں گے ہم انہیں کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اب تو تمہارے سامنے نہیں مگر اس کے کارناموں کے نتائج تمہارے سامنے ہیں۔پاگل جو کام کرتا ہے اس کی کوئی جز انہیں ہوتی۔کیا جب کوئی پاگل بادشاہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی ٹیکس ادا کیا کرتا ہے یا ڈاکٹر بن جاتا ہے تو کوئی اس سے علاج کراتا ہے یا کوئی نبی بنتا ہے تو کوئی اس کا مرید بنتا ہے؟ مگر رسول کریم ﷺ کے متعلق فرمایا کہ ہم اس کے کاموں کا وہ اجر دیں گے جو کبھی کا ٹا نہیں جائے گا۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جب اس کے اعمال کا اجر نہ مل رہا ہوگا۔جب بھی کوئی پاگل ہونے کا اعتراض کرے اس کے سامنے یہ بات رکھ دی جائے کہ پاگل کے کام کا تو نتیجہ اُس وقت بھی نہیں نکلتا جب وہ کر رہا ہوتا ہے مگر رسول کریم علیہ کے متعلق دیکھو کہ کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی نتائج نکل رہے ہیں۔پھر فرمایا ہم ایک اور بات بتاتے ہیں وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ۔پاگل کو پاگل کہو تو وہ تھپڑ مارے گا لیکن عقلمند برداشت کر لے گا۔اگر یہ لوگ تجھے پاگل سمجھتے تو تیری مجلس میں آکر تجھے پاگل نہ کہتے بلکہ تجھ سے دور بھاگتے۔یہ جو تیرے سامنے تجھے الله