سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 343

سيرة النبي عليه 343 جلد 3 کوئی کہتا جھوٹ بولتے ہیں کوئی کہتا کا ہن ہیں۔غرض مختلف قسم کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے۔یہی خیالات آج تک چلتے چلے آتے ہیں۔جب بھی کوئی صلى الله مصنف رسول کریم علیہ کے خلاف لکھتا ہے تو یہی کہتا ہے آپ جھوٹے تھے اور کوئی کہتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ مجنون تھے۔پہلا اعتراض میں سب سے پہلے جنون کے اعتراض کو لیتا ہوں۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ منکر اس کے متعلق کوئی حرف گیری نہیں کر سکتے تھے اس لئے جب آپ کا کلام سنتے تو یہ نہ کہہ سکتے کہ آپ جھوٹے ہیں بلکہ یہ کہتے کہ پاگل ہے۔چونکہ مشرکانہ خیالات ان لوگوں کے دلوں میں گڑے ہوئے تھے ادھر وہ سمجھتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان دونوں باتوں کے تصادم سے یہ خیال پیدا ہو جا تا کہ اس کی عقل ماری گئی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالُوا يَا يُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُونٌ : جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پیش کیا تو لوگوں نے حیران ہو کر کہ اب کس طرح انکار کریں یہ کہ دیا کہ اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھ پر خدا کا کلام اترا ہے تیرا دماغ پھر گیا ہے اور تو پاگل ہو گیا ہے اس کا جواب قرآن کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ وَ إِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُونَ بايكُمُ الْمَفْتُونُ و۔لوگ تجھے پاگل کہتے ہیں مگر ہم دوات اور قلم کو تیری سچائی کے لئے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔پاگل آخر کسے کہتے ہیں؟ اسے جس کی عقل عام انسانوں کی عقل کی سطح سے نیچے ہوتی ہے۔ورنہ پاگلوں میں بھی کچھ نہ کچھ عقل تو ہوتی ہے۔وہ کھانا کھاتے اور کپڑا پہنتے اور پانی پیتے ہیں۔پاگل انہیں اس لئے کہتے ہیں کہ ادنی معیار عقل جو قرار دیا جاتا ہے اس سے ان کی عقل کم ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو پاگل کہنے والوں کے متعلق فرماتا ہے تم اسے پاگل