سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 337
سيرة النبي علي 337 جلد 3 قرآن کریم کو لانے والے انسان کی فضیلت 28 دسمبر 1931ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے کتب سابقہ پر قرآن کریم کی افضلیت کے بارہ میں خطاب فرمایا جس میں رسول کریم علی کی سیرت پر درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی :۔وو ہر کلام جو نازل ہوتا ہے اس کی عظمت اور افضلیت اس لانے والے کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے جس کے ذریعے وہ آتا ہے۔کیونکہ پیغامبر پیغام کی حیثیت سے بھیجے جاتے ہیں۔مثلاً ایک بادشاہ جس نے اپنے کمرہ کی صفائی کرانی ہے وہ چوبدار سے کہے گا کہ صفائی کرنے والے کو بلاؤ۔لیکن اگر اسے یہ کہنا ہوگا کہ فلاں بادشاہ کو ملاقات کیلئے بلاؤ تو چوبدار سے نہیں کہے گا بلکہ وزیر سے کہے گا اور وہ یہ پیغام پہنچائے گا کہ بادشاہ کی خواہش ہے کہ آپ سے ملاقات کریں۔غرض پیغام کی افضلیت پیغامبر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔سفراء جو بادشاہوں کے خطوط لے کر جاتے ہیں ان کے متعلق بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ بلند پایہ رکھنے والے ہوں۔اسی طرح اعلیٰ درجہ کے کلام کو سمجھانے کے لئے اعلیٰ درجہ کے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی کتاب علمی لحاظ سے بہت بلند مرتبہ رکھتی ہو تو اس کو پڑھانے والے کے لئے بھی اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہوگی۔ایم۔اے کے طلباء کو پڑھانے والا معمولی قابلیت کا آدمی نہیں ہو سکتا۔اگر کسی جگہ کوئی پرائمری پاس پڑھانے کے لئے بھیجا جائے تو سمجھا جائے گا کہ ابتدائی قاعدہ پڑھایا جائے گا۔اگر انٹرنس پاس بھیجا جاتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ چوتھی پانچویں جماعت کو پڑھائے گا۔اگر گر یجو یٹ بھیجا جاتا ہے تو نویں