سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 335
سيرة النبي علي 335 جلد 3 شریعت محمدی کی فضیلت حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1931ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں فضائل القرآن کے سلسلہ کا چوتھا خطاب فرماتے ہوئے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے بارہ میں درج ذیل امور بیان فرمائے :۔سمجھنا چاہئے کہ یہ کیا فضیلت ہے۔اگر حضرت موسیٰ چاہتے تو وہ بھی کلام اللہ کو الگ جمع کر سکتے تھے۔اگر تورات سے حضرت موسی کا کلام اور انجیل سے حضرت عیسی کا کلام نکال لیا جائے تو کیا یہ کتابیں قرآن کریم کے برابر ہو جائیں گی ؟ میں کہوں گا نہیں۔کیونکہ اگر حضرت موٹی ایسا کر سکتے تو کیوں نہ کر دیتے۔اگر حضرت موٹی کیلئے ممکن ہوتا کہ الفاظ والی وحی کو الگ کر کے کتاب بنا دیتے تو کیوں نہ کر دیتے۔اسی طرح اگر حضرت عیسی کے لئے ممکن ہوتا تو وہ بھی کیوں نہ کر دیتے۔یہ فضیلت صرف الله رسول کریم ﷺ کو ہی حاصل ہے کہ ساری کی ساری شریعت آپ ﷺ کو وحی کے الفاظ میں عطا ہوئی۔باقی سب انبیاء کی کتب میں کچھ کلام الہی تھا، کچھ نظارے تھے اور کچھ مفہوم جسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔اگر وہ نظاروں اور مفہوم کے حصہ کو علیحدہ کر دیتے تو ان کی کتابیں نامکمل ہو جاتیں کیونکہ ان کا سارا دین کلام اللہ میں محصور نہیں۔کچھ رویا اور کشوف ہیں اور کچھ وحی خفی کے ذریعہ سے تھا۔اگر وہ کلام اللہ کو الگ کرتے تو ان کا دین ناقص رہ جاتا۔برخلاف اس کے قرآن کریم میں سب دین آ گیا ہے۔اور کلام اللہ میں ہی سب دین محصور ہے۔پس قرآن کے سوا اور کسی نبی کی کتاب کا نام کلام اللہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ نام صرف قرآن کریم کا ہی ہے۔