سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 24

سيرة النبي علي 24 جلد 3 ہوئے اصول کی پیروی کرے۔انگریزی قانون جو طلاق اور خلع کے لئے کسی ایک فریق کی بدکاری اور ساتھ ہی ظلم اور مار پیٹ کو لازمی قرار دیتا تھا 1923 ء میں بدل دیا گیا اور صرف بدکاری بھی طلاق اور خلع کا موجب تسلیم کر لی گئی۔نیوزی لینڈ میں 1912ء میں فیصلہ کر دیا گیا کہ سات سالہ پاگل کی بیوی کا نکاح فتح کیا جا سکتا ہے اور 1925 ء میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر خاوند یا بیوی عورت اور مرد کے حقوق کو ادا نہ کریں تو طلاق یا خلع ہو سکتا ہے اور تین سال تک خبر نہ لینے پر طلاق کو جائز قرار دیا گیا (بالکل اسلامی فقہاء کی نقل کی ہے مگر تیرہ سو سال اسلام پر اعتراض کرنے کے بعد ) آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ میں پانچ سالہ جنون کو وجہ طلاق تسلیم کر لیا گیا ہے۔ٹمانیا میں 1919ء میں قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ بدکاری، چار سال تک خبر نہ لینا ، بدمستی اور تین سال تک عدم توجہی ، قید، مار پیٹ اور جنون کو وجہ طلاق قرار دیا گیا ہے۔علاقہ وکٹوریا میں 1923 ء میں قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ خاوند اگر تین سال خبر نہ لے، بدکاری کرے، خرچ نہ دے یا سختی کرے، قید، مار پیٹ، یا عورت کی طرف سے بدکاری یا جنون یا سختی اور فساد کا ظہور ہو تو طلاق اور ضلع ہوسکتا ہے۔مغربی آسٹریلیا میں علاوہ اوپر کے قوانین کے حاملہ عورت کی شادی کو بھی فتح قرار دیا گیا ہے (اسلام بھی اسے ناجائز قرار دیتا ہے )۔کیوبا جزیرہ میں 1918ء میں فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ بدکاری پر مجبور کرنا، مار پیٹ، گالی گلوچ ، سزا یافتہ ہونا، بدمستی، جوئے کی عادت، حقوق کا ادا نہ کرنا ، خرچ نہ دینا، متعدی بیماری یا باہمی رضا مندی کو طلاق یا خلع کی کافی وجوہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔اٹلی میں 1919ء میں قانون بنا دیا گیا ہے کہ عورت اپنے مال کی مالک ہو گی اور اس میں سے صدقہ خیرات کر سکے گی یا اسے فروخت کر سکے گی (اس وقت تک