سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 324

سيرة النبي عمال 324 جلد 3 ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے۔اس کے بعد وہ اپنے آپ کو کس طرح امن میں نہ سمجھتا ہو گا۔غرضیکہ ہر شخص خواہ وہ کن حالات میں ہو آپ کے متعلق کہہ سکتا ہے کہ 6 آپ ہم میں سے ہیں۔لیکن جو مثالیں میں نے اوپر پیش کی ہیں ان کی بنا پر مسلمان تو کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہم میں سے ہیں مگر ایک غیر مسلم کس طرح یہ کہ سکتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ سب گزشتہ بزرگوں کی ضروری اور اچھی تعلیم اس میں ہے اور اس لحاظ سے ہر غیر مسلم بھی کہہ سکتا ہے کہ محمد ﷺ ہم میں سے ہے۔دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ آپ نے تمام گزشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔خدا تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ 23 اور جب ہر قوم میں نبی ہوئے ہیں اور ادھر صلى الله آپ نے فرمایا کہ تمام انبیاء بھائی بھائی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ محمد علی ، حضرت رام، کرشن، موسی، عیسی، زرتشت، کنفیوشس علیهم السلام سب کے بھائی تھے اور اس طرح ہندوستانی، ایرانی، مصری ، جاپانی، چینی ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ مُحَمَّدٌ مِنْ أَنْفُسِنَا کیونکہ آپ سب انبیاء کی اسی طرح تصدیق کرتے ہیں جس طرح خود ان کے ماننے والے کرتے ہیں۔پس اس قول میں محمد رسول اللہ ﷺ اور ساری اقوام شامل ہیں اور ہر ایک قوم کہہ سکتی ہے کہ محمد ﷺ ہم میں سے ہے۔بعض عیسائی آپ کے متعلق لکھتے ہیں کہ آپ ایک اچھے عیسائی تھے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ اچھے عیسائی ، موسائی، بدھ سب کچھ تھے کیونکہ آپ مسلمان تھے اور مسلمان کے معنے ہی یہ ہیں جو سب صداقتوں کو ماننے والا ہو۔پس جہاں قرآن کا یہ دعوی ہے کہ محمد تو تم میں سے ہے صلى وہاں آپ کی زندگی کا ہر شعبہ اس دعویٰ کی دلیل ہے۔تیسری صفت جو قرآن کریم نے آپ کی بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ عَزِیز عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ تمہارے اوپر تکلیف اس پر گراں گزرتی ہے۔عزیز میں صرف شاق کا مفہوم ہی نہیں بلکہ یہ عزت سے نکلا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہیں بڑی چیز