سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 322
سيرة النبي عمال 322 جلد 3 وقت یہاں ٹھہر نا ہلاکت کے منہ میں جانا ہے۔مگر آپ نے فرمایا چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔اور ایسی خطرہ کی حالت میں بھی آپ کہتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔انَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب 17 صلى الله احد کی جنگ میں ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو خون سے تر بتر تھا، ہر طرف سے اس پر حملے ہو رہے تھے اور وہ اکیلا ہی سب کا مقابلہ کر رہا تھا۔جب میں نے قریب جا کر دیکھا تو وہ رسول کریم ع تھے۔ایسے جری کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ آپ نے بزدلی سے صلح کی۔صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ سخت جوش میں تھے، ان کی تلوار میں پھڑک رہی تھیں مگر آپ نے فرمایا کہ ہم صلح کر لیں گے 18۔آپ نے تجارت بھی کی ہے اور ایسی کہ حضرت خدیجہ کے غلام کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ایماندار کوئی نہیں دیکھا۔سب سے زیادہ نفع آپ کو ہوتا تھا۔آپ کی چیز میں اگر کوئی نقص ہوتا تو آپ خود ہی اس کو ظاہر کر دیتے۔نتیجہ یہ تھا کہ گا ہک تلاش کر کے آپ سے مال خریدتے تھے۔آپ کا غریبوں اور چھوٹوں سے معاملہ ایسا احسان کا تھا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی کہ مجھے کچھ مال دو۔آپ نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف یہ جواب دیا کہ میں بخیل نہیں ہوں۔اگر میرے پاس ہوتا تو میں ضرور دے دیتا 19۔اُس وقت آپ کے دس ہزار صحابی آپ کے پاس موجود تھے۔اگر آپ ذرا سا بھی اشارہ کر دیتے تو وہ اس کی گردن اڑا دیتے۔مگر آپ نے ذرا بھی خفگی کا اظہار نہیں کیا۔غور کرو کون ہے جو اپنے چھوٹوں سے ایسا سلوک کرے۔ایک دفعہ حاتم طائی کے قبیلہ کے لوگ آئے تا حالات دیکھ کر اندازہ کریں کہ