سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 23

سيرة النبي علي 23 جلد 3 بڑے ہو جائیں تو تعلیم وغیرہ کے لئے باپ کے سپر د کر دیے جائیں۔جب تک بچے ماں کے پاس رہیں ان کا خرچ باپ دے بلکہ ماں کو ان کے لئے جو وقت خرچ کرنا پڑے اور کام کرنا پڑے تو اس کی بھی مالی مدد خاوند کو کرنی چاہئے۔عورت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور دینی انعامات بھی وہ ہر قسم کے پاسکتی ہے۔مرنے کے بعد بھی وہ اعلیٰ درجہ کے انعامات پائے گی اور اس دنیا میں بھی حکومت کے مختلف شعبوں میں وہ حصہ لے سکتی ہے۔اور اس صورت میں اس کے حقوق کا ویسا ہی خیال رکھا جائے گا جس طرح کہ مردوں کے حقوق کا۔یہ وہ تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺ نے اُس وقت دی جب اس کے بالکل برعکس خیالات دنیا میں رائج تھے۔آپ نے ان احکام کے ذریعہ عورت کو اس غلامی سے آزاد کرا دیا جس میں وہ ہزاروں سال سے مبتلا تھی۔جس میں وہ ہر ملک میں پابند کی جاتی تھی۔جس کا طوق ہر مذہب اس کی گردن میں ڈالتا تھا۔ایک شخص نے ایک ہی وقت میں ان دیرینہ قیود کو کاٹ دیا اور دنیا بھر کی عورتوں کو آزاد کر دیا۔اور ماؤں کو آزاد کر کے بچوں کو بھی غلامی کے خیالات سے محفوظ کر لیا اور اعلیٰ خیالات اور بلند حوصلگی کے جذبات کے ابھرنے کے سامان پیدا کر دیے۔مگر دنیا نے اس خدمت کی قدر نہ کی۔اس نے وہی بات جو احسان کے طور پر تھی اسے ظلم قرار دیا۔طلاق اور خلع کو فساد قرار دیا، ورثہ کو خاندان کی بربادی کا ذریعہ، عورت کے مستقل حقوق کو خانگی زندگی کو تباہ کرنے والا۔اور وہ اسی طرح کرتی چلی گئی اور کرتی چلی گئی اور تیرہ سو سال تک وہ اپنی نابینائی سے اس بینا کی باتوں پر ہنستی چلی گئی اور اس کی تعلیم کو خلاف اصول فطرت قرار دیتی چلی گئی۔یہاں تک کہ وقت آگیا کہ خدا کے کلام کی خوبی ظاہر ہو اور جو تہذیب و شائستگی کے دعویدار تھے وہ رسول کریم مے کے تہذیب سکھانے والے احکام کی پیروی کریں۔ان میں سے ہر ایک حکومت ایک ایک کر کے اپنے قوانین کو بدلے اور رسول کریم ﷺ کے بتائے