سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 22
سيرة النبي عليه 22 جلد 3 اس کو خرچ وغیرہ دینا بند کر دے یا کہیں چلا جائے اور اس کی خبر نہ لے تو اس کا نکاح فسخ قرار دیا جائے ( تین سال تک کی مدت فقہائے اسلام نے بیان کی ہے ) اور اسے آزاد کیا جائے کہ وہ دوسری جگہ نکاح کر لے۔اور ہمیشہ خاوند کو اپنی بیوی اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔خاوند کو اپنی بیوی کو مناسب تنبیہ کا اختیار ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ تنبیہ سزا کا رنگ اختیار کرے تو اس پر لوگوں کو گواہ مقرر کرے اور جرم کو ظاہر کرے اور گواہی پر اس کی بنیاد رکھے اور سزا ایسی نہ ہو جو دیر پا اثر چھوڑ نے والی ہو۔خاوند اپنی بیوی کا مالک نہیں ، وہ اسے بیچ نہیں سکتا نہ اسے خادموں کی طرح رکھ سکتا ہے۔اس کی بیوی اس کے کھانے پینے میں اس کے ساتھ شریک ہے اور اس کے ساتھ سلوک اپنی حیثیت کے مطابق اسے کرنا ہو گا اور جس طبقہ کا خاوند ہے اس سے کم سلوک اسے جائز نہ ہوگا۔خاوند کے مرنے کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بھی اس پر کوئی اختیار نہیں۔وہ آزاد ہے ، نیک صورت دیکھ کر اپنا نکاح کر سکتی ہے، اس سے اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔نہ اسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک خاص جگہ پر رہے۔صرف چار ماہ دس دن تک اسے خاوند کے گھر ضرور رہنا چاہئے تا اُس وقت تک وہ تمام حالات ظاہر ہو جائیں جو اس کے اور خاوند کے دوسرے متعلقین کے حقوق پر اثر ڈال سکتے ہیں۔عورت کو اس کے خاوند کی وفات کے بعد سال بھر تک علاوہ اس کے ذاتی حق کے خاوند کے مکان میں سے نہیں نکالنا چاہئے تا اس عرصہ میں وہ اپنے حصہ سے اپنی رہائش کا انتظام کر سکے۔خاوند بھی ناراض ہو تو خود گھر سے الگ ہو جائے عورت کو گھر سے نہ نکالے کیونکہ گھر عورت کے قبضہ میں سمجھا جاتا ہے۔بچوں کی تربیت میں عورت کا بھی حصہ ہے۔اس سے مشورہ لے لینا چاہئے اور اسے بچہ کے متعلق کوئی تکلیف نہیں دینی چاہئے۔دودھ پلوانے ، نگرانی وغیرہ بچہ کے متعلق تمام امور میں اس سے پوچھ لینا چاہئے۔اور اگر عورت اور مرد آپس میں نبھاؤ کو ناممکن پا کر جدا ہونا چاہیں تو چھوٹے بچے ماں ہی کے پاس رہیں۔ہاں جب